بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

14 سال سے غائب والد کا جنازہ


سوال

 میرے والد صاحب تقریباً 14 سال سے لاپتا ہیں،  اور ہمیں نہیں معلوم کہ  وہ اب اس دنیامیں موجود ہیں یا کہ نہیں؟  تو کیا ہم ان کی نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟  اگر پڑھ سکتے ہیں تو کیسے؟

جواب

نمازِ جنازہ صحیح ہونے کے لیے جنازہ کاسامنے ہوناشرط ہے،  اس لیے اگر آپ کے والد دنیا میں نہ بھی ہوں تو بھی ان کا غائبانہ جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ تاہم جنازہ کا مقصد میت کے لیے توبہ، استغفار اور رفعتِ درجات ہوتا ہے، اس لیے نفلی عبادات کرکے اپنے والد صاحب کو ایصالِ ثواب کرتے رہیں۔اگر وہ حیات ہوئے تو بھی ایصالِ  ثواب سے ان کو نفع ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فلاتصح علی غائب وصلاة النبي صلی الله علیه وسلم علی النجاشي لغویة أوخصوصیة". (باب صلوۃ الجنازۃ،2/209،ط:سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے