بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

دو بھایئوں اور دو بھنوں میں وراثت کی تقسیم


سوال

میرے والد ١٩٩٤ میں رحلت فرما گئے تھے . انہوں نے ایک مکان ترکہ میں چھوڑا ہے. میری والدہ کا بھی پچھلے ماہ انتقال ہوگیا . انکے انتقال تک بہن بھائیوں کی خواہش سے والد کی جائیداد کی تقسیم موخر رہی . اب جب کہ والدین فوت ہوچکے ہیں جائیداد کی تقسیم بھائیوں کی وجہ سے تنازع بن رہی ہے بھی . والد نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی ہے اور ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں. وراثت کا سرکاری کاغذ جسمیں جائیداد کا والد صاحب مرحوم و مغفور کے نام اور پانچ وارثوں کے نام موجود ہیں . چونکہوالدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور میرے بھائی، بشمول میری بڑی بہن مجھے میرے جائداد میں جائز حق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں . میری آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ شریعت کی رو سے مجھے آپ میرے جائیداد میں حق کے متعلق آگہی فرمائیں . عین نوازش ہوگی

جواب

جائز وارث کو اس کے وراثتی حق سے محروم رکھنا ظلم اور غصب ہے اور ایساکرنے والا ظالم اور غاصب ہے ، اور ازروئے حدیث ایسا شخص قیامت کے دن جنت سے محروم رہیگا جو ورثاء کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھتا ہے۔ بھائیوں کے ذمہ لازم ہے کہ وہ تمام ورثاء کو ان کا شرعی حق دے کر بری الذمہ ہوجائیں۔جس کی صورت یہ ہوگی کہ مرحوم والد کی متروکہ جائداد کو کل چھ حصوں میں تقسیم کرکے دودو حصے ہر بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو ملیگا۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143505200003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے