بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

خیالات میں طلاق دینا/ طلاق معلق


سوال

(۱) دل ہی دل میں کہناکہ مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہے توکیااس سے طلاق ہوجاتی ہے؟

(۲) بیوی کےساتھ  انجکشن کے متعلق باتوں پر گرم ہونےکےبعد یہ کہناکہ اگرآپ نےانجکشن لگایاتو تو میرے اوپرطلاق۔ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

(۱) طلاق کے بارے میں سوچنے سے یا خیالات میں طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی،  لیکن اگر اسی سوچ کو زبان پر لے آیا اور زبان سے طلاق کے الفاظ کہہ دیے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔

(۲)مذکورہ شرط کے ساتھ طلاق کو معلق کرنے کے بعد جب بھی شرط پائی جائے گی (یعنی بیوی نے انجکشن لگایا) تو بیوی پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے