بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1440ھ- 17 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

یو ٹیوب پر ویڈیو اَپ لوڈ کرکے پیسہ کمانا


سوال

آج کل یو ٹیوب(you tube) پر مختلف لوگوں نے اپنے چینلزبنائے ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض لوگ مزاحیہ ویڈیوز بناتے ہیں تو کچھ لوگ معلوماتی ویڈیوز بناتے ہیں۔کچھ لوگ علماء کے بیانات کی ویڈیوز اَپ لوڈ کرتے ہیں تو بعض لوگ کسی کورس سے متعلق لیکچر کی ۔پھر ان میں بھی بعض ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جن میں کسی جان دار کی تصویر کشی نہیں کی گئی ہوتی، جب کہ بعض بے انتہا واہیات اور نامحرموں کی تصاویر کو شامل ہوتی ہیں۔پھر یہ یو ٹیوب چینل والے اپنی ویڈیوز کو لائک اور شیئر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔تو جس چینل کی ویڈیوز زیادہ دیکھی اور پسند کی جارہی ہوتی ہیں یوٹیوب کی انتظامیہ انہیں اس کے بدلے کچھ رقم بھی دیتی ہے جو چینل والے کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔یو ٹیوب کی اس پالیسی کو دیکھتے ہوئے بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے چینل بنانا شروع کر دیے  ہیں اور بہت سے لوگ اچھا خاصا کما بھی رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح چینل بنا کر کمانا ٹھیک ہے؟ اگر جائز ہے تو کن شرائط کے ساتھ اورکس حد تک ؟ ان کے علاوہ اور پہلو بھی اگر آپ کی نظر میں ہوں تو ان کے شرعی حکم سے بھی آگاہ فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسی معلوماتی ویڈیوز جن میں جان دار کی متحرک یا ساکت تصویر نہ ہو یو ٹیوب پر اَپ لوڈ کرنا اور اس سے پیسے کمانا جائز ہے، بشرطیکہ ویڈیو / ریکارڈنگ میں موسیقی، یا اس کے علاوہ کوئی شرعی مانع (مثلاً: فحش یا ممنوعہ لٹریچر ) نہ ہو۔ بصورتِ دیگر کمائی جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے