بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

یونیورسٹی کے شیعہ دوست سے نکاح


سوال

میں یونیورسٹی کی ایک طالبہ ہوں اور دیوبند مذہب پر چلتی ہوں،  مجھے اس معاملے پر آپ کی راہ نمائی مطلوب ہے:

میرا ایک دوست ہے جو کہ شیعہ ہے، دو سال سے میں اس کو جانتی ہوں،  اس کے عقائد معتدل ہیں،  نہ وہ حضرت علی کو خدا مانتا ہے اور نہ قرآن میں تحریف کا عقیدہ رکھتا ہے۔البتہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو پہلا خلیفہ سمجھتا ہے، لیکن دیگر خلفائے راشدین کے بارے میں زبان درازی نہیں کرتا،  وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے اور نمازوں کو جمع نہیں کرتا اور اچھے اخلاق والا ہے۔

ان کے اپنے خاندان میں مختلف شیعہ سنی شادیاں ہو چکی ہیں۔اس کے نانا بھی سیرت سے سنی ہو گئے تھے اور اس کا کہنا یہ ہے کہ مجھے اپنے گھر والوں کی طرف سے مکمل آزادی ہے کہ میں کس طرح سے عبادت کروں۔ یہ لوگ روتے ہیں، لیکن کسی قسم کا ماتم وغیرہ نہیں کرتے اور نہ اس کو پسند کرتے ہیں۔

  میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے خاندان والوں کو تیار کرنے کی کوشش کررہی ہوں،  لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ شیعہ لڑکا ہے اور ان کو اپنے خاندان کی زیادہ فکر ہے بنسبت میری پسند کے۔ مجھے ایک عالم صاحب کے  ذریعے سے آپ کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ آپ سے اس مسئلہ میں راہ نمائی حاصل کریں!

جواب

آپ کی شادی کے معاملے میں آپ کی پسند معتبر ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ  درج ذیل امور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں:

  1. مذکورہ عقائد کے علاوہ دیگر بھی ایسے عقائد ہیں جن کی وجہ سے ایک سنی کا شیعہ سے شادی کرنا درست نہیں ہے،  مثلاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا یا ان کے حق میں گستاخی کرنا یا بارہ اماموں کی امامت کو من جانب اللہ مان کر ان کو معصوم ماننا یا اللہ تعالی کے بارے میں ’’بدا ‘‘  کا عقیدہ رکھنا یعنی نعوذباللہ اللہ تعالی سے بھی فیصلے میں خطا ہوجاتی ہے۔  ان عقائد میں سے کسی عقیدے کے حامل کو مسلمان تصور نہیں کیا جاسکتا۔
  2.  عقائد کے حوالے سے یہ بھی اصول ہے کہ اگر کوئی شخص غلط عقیدہ رکھتاہو یا کسی غلط عقیدے کے بارے میں متہم (اس پر تہمت یا شبہ) ہو تو اس غلط عقیدہ سے براءت بھی ضروری ہے، یعنی یہ اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ کہ وہ خود اس عقیدے کا حامل نہیں ہے ان لوگوں سے بھی براءت و بے زاری ظاہر کرے جنہوں نے ایسی باتیں کہی یا لکھی ہیں۔
  3. یہ حضرات عموماً تقیہ بھی کرتے ہیں یعنی اپنے اصل عقیدے کو ظاہر نہیں کرتے اور اس کو ثواب سمجھتے ہیں،  لہذا محض دو سال کی طالب علمانہ رفاقت کی بنیاد پر ان کے عقیدوں کی تحقیق کو نہیں سمجھا جا سکتا، بنا بریں دیگر قرائن کو نظر انداز کرنا دانش مندی وبصیرت کے خلاف ہوگا۔ 
  4.  نکاح محض میاں بیوی کے تعلق کا نام نہیں ہے،  بلکہ دو خاندانوں کا جوڑ ہے،  اس سلسلے میں دونوں خاندانوں کی برابری  کا بھی شریعت میں لحاظ کیا گیا ہے۔اس سے زوجین کا باہمی تعلق مضبوط رہتا ہے۔اور آئندہ نسل پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
  5. دو سال تک ایک غیر محرم سے تعلقات قائم کرنا بذاتِ خود ایک گناہ ہے، اس کی بنیاد پر اگر نکاح کیا جائے گا تو اس میں کیسے برکت ہوگی!
  6.  دو سال کے رفیق کے مقابلے میں والدین کی بات کو ترجیح نہ دینا عقل مندی نہیں ہے۔

لہذا آپ ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں اور اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اللہ تعالی آپ کو  نیک صالح شریکِ حیات عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی آپ کے حق میں بہتر ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201119

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے