بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

ہنڈی کے معاملہ پر ایک اشکال


سوال

ہنڈی کے ذریعے  پیسہ بھیجنے کے متعلق سوال جواب پڑھا،  لیکن ایک اشکال ہے، وہ یہ کہ "احد المتعاقدین" کا قبضہ نہیں ہوتا ؛ کیوں کہ رابطہ اکثر فون پر ہوتا ہے او ر جگہ کی دوری کی وجہ سے پیسہ دو چار دن بعد قبض کر لیتے ہیں تو آیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

جواب

ہنڈی کا معاملہ "بیعِ صرف" کا نہیں ہے کہ اس میں جانبین کا مجلسِ عقد میں قبضہ ضروری ہو، بلکہ ہنڈی بیع ہے ہی نہیں، ہنڈی کا معاملہ شرعاً قرض ہے، اور اس پر جو الگ سے طے شدہ اجرت لی جاتی ہے وہ اجارہ ہے، اور یہ دونوں الگ الگ معاملہ ہنڈی میں انجام پاتے ہیں، اور قرض میں جانبین سے قبضہ ضروری نہیں ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته (5/ 331):
"ويتم التعبير عن هذا القرض بتسليم المقرض وصلاً (وثيقة)، يثبت حقه في بدل القرض، ويكون المقترض وهو الصراف أو البنك ضامناً لبدل القرض، ولكنه يأخذ أجراً أو عمولةً على تسليم المبلغ في بلد آخر مقابل مصاريف الشيك أوأجرة البريد أو البرقية أو التلكس فقط؛ لتكليف وكيل الصراف بالوفاء أو السداد. وهذان العقدان: الصرف والتحويل القائم على القرض هما الطريقان لتصحيح هذا التعامل، فيما يبدو لي".
فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143908200851

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے