بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ہدیہ، صدقہ اور عطیہ میں فرق


سوال

ہدیہ ،صدقہ اور عطیہ میں کیا فرق ہے؟

جواب

1- "ہدیہ "کے معنی تحفہ کے ہیں ۔

2- صدقہ کی دو قسمیں ہیں: صدقاتِ  واجبہ،  جیسے:  زکاۃ وغیرہ ۔ اور نفلی صدقات، جیسے:  کسی کو اللہ کی رضا کے لیے کچھ دینا۔

3- عطیہ کا لفظ ہدیہ اور نفلی صدقہ دونوں پر بولا جاتا ہے۔

1۔ ہدیہ اور صدقہ میں فرق یہ ہے کہ :   ہدیہ امیر ، غریب  اور ہاشمی وغیرہ سب کو دے سکتے ہیں ، جب کہ " صدقہ واجبہ" مستحق کو دینا ضروری ہے، البتہ نفلی صدقات غریب ، امیر اور ہاشمی سب کو دے سکتے ہیں ۔

2۔ ہدیہ کے بعد بعض صورتوں کے علاوہ رجوع کرنا مکروہِ  تحریمی ہے، البتہ اگر کوئی ہدیہ کی ہوئی چیز واپس لے لے تو اس کی ملک ہوجاتی ہے، جب کہ صدقہ کردینے کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔

3۔ ہدیہ میں ثواب کے علاوہ غرض و مقصود سامنے والے کی خوش دلی اور طیبِ  قلب ہوتا ہے، جب کہ صدقہ میں محض ثواب کا قصد ہوتا ہے۔

لسان العرب - (15 / 68):

"والعطاء والعطية اسم لما يعطى"۔

تاج العروس من جواهر القاموس - (39 / 62):

" و  العطاء : ما يعطى كالعطية ؛  كغنية  ج أعطية ، جج  جمع الجمع أعطيات.

 وفي الصحاح : العطية المعطى ، والجمع العطايا.

 فالذي ذكره المصنف من الجموع لعطاء وغفل عن ذكر جمع العطية وهو واجب الذكر ، وقيل : العطاء اسم جامع فإذا أفرد، قيل: العطية ".

بدائع الصنائع میں ہے:

"واما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلي الغني لأنها تجري مجري الهبة"۔ (ج:2/48،ط:سعيد)

البحرائق میں ہے:

"وقيد بالزكاة ، لان النفل يجوز للغني كما للها شمي ، واما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقه الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام (لا تحل صدقة للغني) خرج النفل منها لا ن صدقة  علي الغني هبة"۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (20 / 178):

"لايفرق بين الهبة والصدقة وليس كذلك فإن الهبة يجوز الرجوع فيها على ما فيه من الخلاف والتفصيل بخلاف الصدقة فإنه لا يجوز الرجوع فيها مطلقاً"۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (14 / 96):

"والفرق بين الصدقة والهبة أن الصدقة هبة لثواب الآخرة والهدية هبة تنقل إلى المتهب إكراماً له، قلت: الصدقة قد تكون هبةً، والهبة قد تكون صدقةً، وإن الصدقة على الغني هبة، والهبة للفقير صدقة"۔

عطیہ : عطا ، بخشش ، انعام دی ہوئی چیز۔     (فیروز اللغات )

ہدیہ: تحفہ، نذرانہ، نذر، پیش کش۔ (فیروز اللغات) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے