بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1440ھ- 17 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

گھر کو گیسٹ ہاؤس یا ہوٹل کے لئے کرایہ پر دینا


سوال

کیا اپنا گھر گیسٹ ہاؤس یا ہوٹل کو کرایہ پر دیا جا سکتا ہے؟ ہوٹل والے جائز یا نا جائز کام کریں تو اس میں مالک مکان کا حصہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

فی نفسہ ہوٹل بنانا یا مسافروں و  دیگر افراد کے لیے مسافر خانہ (گیسٹ ہاؤس) بنانا جائز ہے، شرعاً اس میں قباحت نہیں، اسی طرح  اپنا گھر گیسٹ ہاؤس یا ہوٹل کے لیے  کرایہ پر دینا بھی جائز ہے بشرطیکہ مدت و کرایہ متعین ہو۔ اگر معلوم ہو  یا غالب گمان ہو کہ کرایہ دار گھر کو معصیت کے کاموں میں استعمال کرے گاتو اسے گھر کرایہ پر نہ دیا جائے۔ اسی طرح اگر کسی جگہ گھر کو گیسٹ ہاؤس یا ہوٹل میں بدلنا قانوناً  ممنوع ہو تو اس سے گریز کیاجائے۔ فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144008200045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے