بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

گھر میں کام کرنے والی خواتین کی تنخواہ کا حکم


سوال

عورت کی کمائی حلال ہے یا حرام ہے جیسا کہ آج کل ڈیفنس کے اندر لوگوں کے گھروں میں ماسیاں کام کر کے تنخواہ لیتی ہیں؟

جواب

عورت اگر کوئی جائز کام کرے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، لہٰذا گھروں میں کام کرنےوالی خواتین کی کمائی بھی حلال ہے:

''(والثاني) وهو الأجير (الخاص) و يسمي أجير وحد ( وهو من يعمل لواحد عملاً مؤقتاً بالتخصيص و يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل، كمن استؤجر شهراً للخدمة أو) شهراً (لرعي الغنم)''۔ (شامي، كتاب الاجارة، ٦/ ٦٩، ط: سعيد)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے