بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

 گڈ مارننگ گڈ نائٹ کہنا


سوال

’’ گڈ مارننگ‘‘، ’’ گڈ نائٹ‘‘  اور ’’گڈ آفٹر‘‘  اور ملاقات کے وقت ’’ہائے ہیلو‘‘  کہنا اور رخصت ہوتے وقت ’’بائے‘‘  کہنا کیسا ہے شرعاً؟ 

جواب

اسلام نے مسلمانوں کو میل جول کے وقت سلام کا طریقہ سکھایا ہے۔

حضرت عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سرکار دوعالمﷺ سے دریافت کیا : اہلِ اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: کھانا کھلانا اور ہر شناسا وناشناسا کو سلام کرنا۔(بخاری، رقم الحدیث: ۱۲، باب اطعام الطعام)

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکارِ  دو عالمﷺ نے فرمایا: مسلمان پر، مسلمان کے چھ حقوق ہیں: (۱) جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو دوسرا مسلمان اس کی مزاج پرسی کرے۔ (۲)جب کوئی مسلمان مرجائے تو (دوسرا مسلمان) اس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہو۔  (۳) جب کوئی مسلمان کھانے پر بلائے تو اس کی دعوت قبول کرے ۔ (۴)جب (کوئی مسلمان) ملے تو اس کو سلام کرے۔  (۵) جب کوئی مسلمان چھینکے (اور الحمد للہ کہے) تو اس کا جواب دے (یعنی یرحمک اللہ کہے)۔  (۶) خیر خواہی کر ے خواہ (دوسرا مسلمان) موجود ہو یا غائب۔(مسلم، رقم: ۵۶۵۱،کتاب السلام)

نیز احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا سلام بھی یہی سلام تھا، اور قرآنِ مجید اور احادیثِ مقدسہ میں کئی مقامات پر مذکور ہے کہ اہلِ جنت کی ملاقات کے وقت ان کا سلام بھی یہی سلامِ مسنون ہوگا جو اسلام نے ہمیں سکھایا ہے، اور جنت میں فرشتے بھی ان ہی کلمات سے سلام کریں گے۔

سلام کے یہ کلمات انبیاءِ کرام علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔  سلام کے کلمات میں کئی فوائد و حکمتیں بھی ہیں، سلام اور سلام کا جواب درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکت کی دعا ہے، اگر یہ دعا ایک مرتبہ بھی کسی کے حق میں قبول ہوجائے تو اس کی زندگی کا بیڑا پار ہوجائے گا، جب کہ دیگر زبانوں اور مختلف اقوام کی طرف سے ملاقات کے وقت استعمال کردہ کلمات میں یہ فائدہ اور فضیلت موجود نہیں ہے۔ نیز سلام کے تین کلمات ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘  میں تیس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں، جو دیگر کسی جملے کے کہنے سے حاصل نہیں ہوں گی۔ اسی طرح سلام پھیلانا باہم محبت کا نسخہ اکسیر بھی ہے، جو دیگر رسمی دعائیہ کلمات سے بالکلیہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے: 

"لاتدخلوا الجنة حتی تؤمنوا، ولاتؤمنوا حتی تحابوا، أولا أدلکم علی شيء إذا فعلتموه تحاببتم؟ أفشوا السلام بینکم". (صحیح مسلم)

ترجمہ: تم لوگ جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ مؤمن نہ بن جاؤ، اور تم کامل مؤمن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز (عمل) نہ بتاؤں کہ جب تم وہ کرنے لگو تو آپس میں محبت کرنے لگوگے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔

لہذا مسلمانوں کو ملاقات اور رخصت ہوتے وقت سلام کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ سلام کے کلمات ادا کرنے کے ساتھ اگر کوئی حال احوال اور خیر خبر معلوم کرنے کے لیے دیگر زبانوں کے کلمات بھی استعمال کرتاہے تو اس میں حرج نہیں ہے، نیز سلام کے ساتھ اگر دوسری کسی زبان والے  باہمی کچھ دعائیں بھی دیتے ہوں جیسے ’’شب بخیر‘‘  وغیرہ تو اس کا استعمال بھی جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے