بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گود لیے ہوئے بچہ کو بطورِ سرپرست اپنا نام دینے کا حکم


سوال

زید  کی شادی کو پندرہ سال ہوگئے ہیں، مگرابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہے، دونوں میاں بیوی نے کوئی بچہ گود لینے کاسوچاکہ اس طرح شاید اللہ کرم فرمادے، اتفاق سے ان کوایک ماہ کا بچہ بھی مل گیا، اب زیداس بات پر پریشان ہے کہ اس بچہ کو اپنانام دے یانہیں؟  اگرنام دیتاھے تو تبدیلی نسبت کی وعید ہے، اگر نہیں دیتاتو قانونی طور پر اس بچے کو اپنے ساتھ سفرپر نہیں لے جاسکتا خصوصاً حج یاعمرے کے سفرپر، کیااس قانونی مشکل سے بچنے کے لیے بچے کو اپنانام(ایڈاپٹ)دےسکتاہے، صرف سرکاری کاغذات کی حد تک؟ جب کہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ زیدنے یہ بچہ لے کر پالا ہے، اور یہ فلاں کا بچہ ہے، خود زیدکا بھی یہی ارادہ کہ بچہ جب بڑا ہوگا تو اس کوسب کچھ بتادوں گا۔  کیا زیدکے لیے ایسا کرنا جائزہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  زید کے لیے گود لیے ہوئے بچے کو بطورِ والد اپنا نام دینا تو جائز نہیں ہے، البتہ زید کاغذات میں اس بچہ کو بطورِ سرپرست اپنا نام دے سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201111

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے