بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ قضا نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ، نماز پڑھنے کا شوق کیسے پیدا ہوگا؟


سوال

میری کافی  نمازیں رہ گئی ہیں، ان کو میں کس طرح ادا کروں ؟ اور میرا دل نماز کی طرف کس طرح لگے گا؟ میری نمازیں  دن میں دو، یا تین ہوتی ہیں، کس طرح میں اپنا دل نماز کی طرف لگاؤں،  جس سے میری  پانچ نمازیں جماعت کے ساتھ ہوجائیں؟

جواب

       جو نمازیں قضا ہوئی ہیں ان پر توبہ واستغفار کیجیے، آئندہ کسی صورت میں  نماز قضا نہ کرنے کا عزم کیجیے، اور بلوغت کے بعد جتنی فرض نمازیں اور وتر ادا نہیں کیے ہیں،  ان کو ادا کیجیے، اگر قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو غالب گمان پر عمل کریں اور نمازوں کی قضا کرتے رہیں، یہاں تک  یہ  یقین  ہوجائے کہ  اب میرے ذمہ کوئی اور نماز باقی نہیں ہوگی، قضا نماز ادا کرنے کی  آسان صورت یہ ہے کہ  ہر ایک نماز کے ساتھ ایک نماز کی قضا کرلی جائے ، یا دن رات میں کوئی ایک وقت مخصوص کرکے ایک دن کی قضا پڑھ  لیں،  اورہر قضا نماز کے لیے نیت یہ کریں   کہ  میرے ذمہ جتنی نمازیں قضا ہیں، ان میں سے یہ پہلی کی قضا کرتا ہوں، مثلاً: اگر فجر کی قضا کرنی ہوتو  نیت اس طرح کرے کہ  میرے ذمے جتنی فجر  کی قضا نمازیں ہیں ان میں سے سب سے پہلی کی قضا کرتا ہوں، اسی طرح دیگر نمازوں میں بھی نیت کرلیں۔

         اللہ سے گناہوں پر خوب توبہ واستغفار کریں، اور اس سے نماز پڑھنے کی توفیق مانگیں، اور آخرت کا استحضار کریں، نیز دل ہو یا نہ ہو نماز ضرور پڑھیں ، جب شروع میں اپنے اوپر جبر کرکے پڑھیں گے تو پھر آہستہ آہستہ عادت بن جائے گی، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ کے خطبات میں ہے:

” عوام کو قبلِ عمل ہی کے تعطل ہوگیا ہے، چناں چہ یہ لوگ کسی  بزرگ کے پاس جائیں گے تو یہ کہیں گے  کہ کوئی ایسی تدبیر بتلادیجیے کہ نماز کا شوق ہوجائے ، حال آں کہ شوق ہوتا ہے نماز پڑھنے  ہی سے، نماز تو یہ چاہتی ہے کہ یہ اس کو پڑھیں تو شوق پیدا ہو اور  وہ یہ چاہتے ہیں کہ  پہلے شوق ہوجائے تو نماز پڑھیں، اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی چاہے کہ کھانا پختہ  ہوجائے (پک جائے) مگر جو اسباب ہیں پختہ ہونے کے ان کو جمع نہ کرے تو کیسے پختہ ہوگا؟“ ۔ (خطبات حکیم الامت، (21/125، ادارہ تالیفات اشرفیہ)

'' وإذا كثرت الفوائت يحتاج لتعيين كل صلاة"، يقضيها لتزاحم الفروض والأوقات، كقوله: أصلي ظهر يوم الإثنين ثامن عشر جمادى الثانية سنة أربع وخمسين وألف، وهذا فيه كلفة، "فإن أراد تسهيل الأمر عليه نوى أول ظهر عليه"، أدرك وقته ولم يصله، فإذا نواه كذلك فيما يصليه يصير أولاً فيصح بمثل ذلك وهكذا "أو" إن شاء نوى "آخره" فيقول أصلي آخر ظهر أدركته ولم أصله بعد، فإذا فعل كذلك فيما يليه يصير آخراً بالنظر لما قبله فيحصل التعيين۔ ۔ ۔ خاتمة:  من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه، فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء''۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 446، 447) ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200831

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے