بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1440ھ- 23 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

گابن جانور کی قربانی


سوال

میں قربانی کے لیے گائے لایا ہوں، مجھے کچھ عزیز واقارب نے بتایا کہ اس گائے کے پیٹ میں بچہ ہے،  اس صورت میں میری قربانی ہوجائے گی؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ 

جواب

جس جانور کے پیٹ میں بچّہ ہو (زندہ یا مردہ) اس کا ذبح کرنا جائز ہے، البتہ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کوذبح کرنا مکروہ ہے، اوراگر یہ جانور قربانی کا ہے تو ذبح کے بعد جو بچہ نکلےاس کو بھی ذبح کیا جائے گا، اور اس کا کھانا حلال ہے، اور اگر مردہ نکلے تو اس کا کھانا درست نہیں۔

الفتاوى الهندية (5/ 287):

’’شاة أو بقرة أشرفت على الولادة، قالوا: يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد‘‘.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے