بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1440ھ- 22 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

گائے کے ساتویں حصہ میں تمام چھ شرکاء کا شریک ہونا


سوال

ایک گائے میں چھ افراد شریک ہو جائیں اور ساتواں حصہ یہ چھ افراد پیسوں اور گوشت کے اعتبار سے آپس میں بانٹ لیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

جواب

قربانی کے بڑے جانور (مثلا گائے، بیل ، بھینس اور اونٹ یا اونٹنی ) میں ایک سے لے کر سات تک حصے کیے جاسکتے ہیں، لیکن سات سے زیادہ حصے کرنا جائز نہیں ہیں، یعنی کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم رکھنا جائز نہیں ہے، ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی۔ ساتویں حصے سے کم ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک جانور میں سات سے زائد افراد شریک ہوجائیں، مثلاً ایک بڑے جانور میں آٹھ افراد شریک ہوجائیں تو ہر شریک  کا حصہ  ساتھویں  حصہ سے کم ہوگا اور کسی بھی شریک کی قربانی صحیح نہیں ہوگی، اورساتویں حصے سے کم ہونے کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شریک نے ایک حصہ سے کم مثلاً: آدھا یا تہائی حصہ لیا ہے تب بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔ اسی طرح بڑے جانور ( مثلاً: گائے  وغیرہ ) کے ایک حصے میں قربانی کی نیت سے ایک سے زائد افراد شریک نہیں ہو سکتے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایک گائے میں جو چھ شریک ہیں ان کو چاہیے کہ گائے کی مکمل قیمت کو ابتدا  ہی سے چھ حصوں پر تقسیم کردیں اور مکمل گوشت کے بھی  چھ حصے بنا کر تقسیم کرلیں، اس طرح ہر ایک شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کچھ بڑھ جائے گا، لیکن گائے کے چھ حصے الگ متعین کرنے کے بعد ساتویں  حصہ میں چھ میں سے ہر ایک کا شریک رہنا درست نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70)

"ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - وإن زادوا على سبعة -، ولا يجزي عن أهل بيتين - وإن كانوا أقل من سبعة -، والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة». وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة من غير فصل بين أهل بيت وبيتين»؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لا يتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو بيتين فكذا البقرة ... ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى، وسواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت؛ بأن يكون لأحدهم النصف وللآخر الثلث ولآخر السدس بعد أن لا ينقص عن السبع، ولو اشترك سبعة في خمس بقرات أو في أكثر فذبحوها أجزأهم؛ لأن لكل واحد منهم في كل بقرة سبعها، ولو ضحوا بقرةً واحدةً أجزأهم، فالأكثر أولى، ولو اشترك ثمانية في سبع بقرات لم يجزهم؛ لأن كل بقرة بينهم على ثمانية أسهم، فيكون لكل واحد منهم أنقص من السبع، وكذلك إذا كانوا عشرةً أو أكثر فهو على هذا".

الفتاوى الهندية (5/ 304)
" والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، ولا يمنع النقصان، كذا في الخلاصة".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201947

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے