بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

 کیا موبائل فون میں قرآن پڑھنا تقوی کے خلاف ہے؟


سوال

 کیا موبائل فون میں قرآن پڑھنا تقوی کے خلاف ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

جب وحی کا نزول شروع ہوا  تو  اس وقت کتابتِ  وحی کے  لیے موجودہ  وسائل دست یاب  نہ  تھے ، بلکہ صحابہ کرام اس وقت کے مروجہ وسائل بروئے کار لاکر نازل ہونے والی وحی لکھا کرتے تھے،  مثلاً: پتھر، ہڈی، کجھور  کی چھال  اور لوح(لکڑی)  وغیرہ  پر  قرآنِ کریم کی آیات لکھا کرتے تھے اور اسی سے  تلاوت کرتے اور یاد کیا کرتے تھے یہاں تک کہ نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تمام منتشر  آیات کو  ایک مصحف میں جمع کرادیا ۔ جیسا کہ صحیح بخاری(2/ 646) میں ہے:

"عن عبيد بن السباق أن زيد بن ثابت ، رضي الله عنه ، قال أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده قال أبو بكر ، رضي الله عنه ، إن عمر أتاني فقال إن القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القرآن وإني أخشى أن يستحر القتل بالقراء بالمواطن فيذهب كثير من القرآن وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن قلت لعمر كيف تفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : عمر هذا والله خير فلم يزل عمر يراجعني حتى شرحالله صدري لذلك ورأيت في ذلك الذي رأى عمر قال زيد قال أبو بكر إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك وقد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتتبع القرآن فاجمعه فوالله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمرني من جمع القرآن قلت كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : هو والله خير فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر وعمر ، رضي الله عنهما فتتبعت القرآن أجمعه من العسب واللخاف وصدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع أبي خزيمة الأنصاري لم أجدها مع أحد غيره {لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم} حتى خاتمة براءة فكانت الصحف عند أبي بكر حتى توفاه الله ثم عند عمر حياته ثم عند حفصة بنت عمر ، رضي الله عنه". (کتاب ابواب فضائل القرآن،باب جمع القرآن،ط:قدیمی)

پھر اس کے بعد سے قرآن کی کتابت کاغذ پر ہوتی رہی اور اسی سے ہی لوگ تلاوت کرتے رہے، اب موجودہ زمانے میں کتابت کی ترقی یافتہ جدید صورت سے استفادہ کرتے ہوئے  اسی کاغذ پر لکھے ہوئے قرآن کو اسکین کرکے موبائل میں محفوظ کرلیا گیاہے، جس طرح پتھروں، ہڈیوں،تختیوں اور کجھور کی چھالوں کو چھوڑ کر کاغذ پر لکھے گئے  قرآن سے بلاتردد  تلاوت کی جاتی رہی  اور اس پر کسی نے نکیر نہیں کی  اسی طرح موبائل میں محفوظ قرآن سے بھی بلاتردد تلاوت کی جاسکتی ہے، لیکن قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے کہ مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اٹھانا  یہ اس کا احترام ہے،  اور اس میں معانی میں زیادہ تدبر کا موقع ملتا ہے،  اور یہ سب ثواب کا ذریعہ ہے،  ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں موبائل میں حاصل نہیں ہوتیں،  اور زیادہ ثواب والے کام  کو  چھوڑ  کر  کم ثواب والے کام کو اختیار کرنا خلافِ  اولی اور خلافِ تقوی ہے؛  اس لیے جہاں تک ہوسکے مصحف ہی سے پڑھا جائے، اگر کبھی ضرورت ہو تو موبائل سے پڑھ لیں،  ورنہ عام حالات خصوصاً مسجد میں  جہاں سہولت سے قرآن میسر بھی ہیں  وہاں موبائل کے بجائے مصحف سے قرآنِ مجید پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم ثواب میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ نیز قرآنِ کریم کے ادب کا تقاضا یہ بھی ہے کہ موبائل میں غیر شرعی اشیاء (جان دار کی تصاویر اور ویڈیوز ، موسیقی وغیرہ)  محفوظ نہ رکھی جائیں۔

جمع القرآن الكريم في عهد الخلفاء الراشدين  (1 / 29):
لم تكن وسائل الكتابة وأدواتها متوفرة وميسرة في عصر الصحابة وما قبله، فكان الناس يستخدمون لتسجيل أفكارهم وأشعارهم ومعاهداتهم ووثائقهم وسائل مختلفة من الأحجار والجلود والعظام والأخشاب وما إلى ذلك من الأشياء المتوفرة لديهم، وذلك لندرة الورق ، وهذه الوسائل نفسها هي التي استخدمها الصحابة لكتابة الوحي في حياة الرسول صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔۔فهذه الرواية، وما نقلنا قبلها من موطأ ابن وهب تثبت بأن وسائل الكتابة المذكورة سابقاً هي ما كتب عليها القرآن الكريم قبل عهد أبي بكر رضي الله عنه ، أما في عهده رضي الله عنه فقد كتب المصحف كله في الورق وقد أيد ذلك الحافظ ابن حجر حيث قال : " إنما كان في الأديم والعسب أولاً، قبل أن يجمع في عهد أبي بكر ، ثم جمع في الصحف في عهد أبي بكر ، كما دلت عليه الأخبار الصحيحة المترادفة۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1487):
" وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «قراءة الرجل القرآن في غير المصحف ألف درجة، وقراءته في المصحف تضعف على ذلك إلى ألفي درجة» ".
2167 - (وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : قراءة الرجل القرآن في غير المصحف) ، أي من حفظه (ألف درجة) ، أي ذات ألف درجة أو ثوابها ألف درجة في كل درجة حسنات، قال الطيبي: ألف درجة خبر لقوله قراءة الرجل على تقدير مضاف، أي ذات ألف درجة ليصح الحمل كما في قوله تعالى  {هم درجات} [آل عمران: 163] ، أي ذوو درجات، وأغرب ابن حجر وجعل القراءة عن تلك الألف مجازاً كرجل عدل، فتأمل (وقراءته في المصحف تضعف) بالتذكير والتأنيث مشدد العين، أي يزاد (على ذلك) ، أي ما ذكره من القراءة في غير المصحف (إلى ألفي درجة) قال الطيبي: لحظ النظر في المصحف وحمله ومسه وتمكنه من التفكر فيه واستنباط معانيه اهـ يعني أنها من هذه الحيثيات أفضل وإلا فقد سبق أن الماهر في القرآن مع السفرة البررة، وربما تجب القراءة غيبا على الحافظ حفظاً لمحفوظه. قال ابن حجر: إلى غاية لانتهاء التضعيف ألفي درجة لأنه ضم إلى عبادة القراءة عبادة النظر، أي وما يترتب عليها، فلاشتمال هذه على عبادتين كان فيها ألفان، ومن هذا أخذ جمع بأن القراءة نظراً في المصحف أفضل مطلقاً، وقال آخرون: بل غيباً أفضل مطلقاً، ولعله عملاً بفعله عليه الصلاة والسلام، والحق التوسط، فإن زاد خشوعه وتدبره وإخلاصه في إحداهما فهو الأفضل وإلا فالنظر؛ لأنه يحمل على التدبر والتأمل في المقروء أكثر من القراءة بالغيب".  
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے