بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا مغرب کے بعد بچوں کو گھر سے باہر چھوڑنے کی ممانعت احادیث سے ثابت ہے؟


سوال

مغرب کے وقت یا بعد چھوٹے بچے کو گھروں سے باہر لے جانا کیسا ہے؟ مع دلیل بتائیے!

جواب

غروبِ آفتاب سے لے کر عشاء کا وقت داخل ہونے تک شیاطین وجنات کا گزر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بچوں کو باہر چھوڑنے سے منع فرمایا ہے، جیساکہ صحیح بخاری میں ہے :

"5623 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ، أَوْ أَمْسَيْتُمْ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحُلُّوهُمْ، فَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَيَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ». قال النووي في شرح صحيح  مسلم:  قَوْله: جُنْح اللَّيْل هُوَ ظَلَامه، وَيُقَال: أَجْنَحَ اللَّيْل أَيْ: أَقْبَلَ ظَلَامه. فَكُفُّوا صِبْيَانكُمْ أَيْ: اِمْنَعُوهُمْ مِنْ الْخُرُوج ذَلِكَ الْوَقْت. وقال الشبيهي الإدريسي في الفجر الساطع على الصحيح الجامع: إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ: أي أوله عند غروب الشمس".

صحیح مسلم کی روایت میں مزید صراحت ملتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہونے کے بعد سے عشاء تک بچوں اور مویشیوں کو باہر چھوڑنے سے منع فرمایا ہے:

"قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْبَعِثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ." رواه مسلم. قال النووي: الْفَوَاشِي كُلّ مُنْتَشِر مِنْ الْمَال كَالْإِبِلِ وَالْغَنَم وَسَائِر الْبَهَائِم وَغَيْرهَا، وَفَحْمَة الْعِشَاء ظُلْمَتهَا وَسَوَادهَا، وَفَسَّرَهَا بَعْضهمْ هُنَا بِإِقْبَالِهِ وَأَوَّل ظَلَامه، وَكَذَا ذَكَرَهُ صَاحِب نِهَايَة الْغَرِيب، قَالَ: وَيُقَال لِلظُّلْمَةِ الَّتِي بَيْن صَلَاتَيْ الْمَغْرِب وَالْعِشَاء: الْفَحْمَة، وَلِلَّتِي بَيْن الْعِشَاء وَالْفَجْر الْعَسْعَسَة". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201472

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے