بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا مدرسہ سے تنخواہ وصول کرنا جائز ہے؟


سوال

میں ایک مدرسہ میں ایک دو سال سے قرآن مجید  محض اللہ کی رضا کے لیے پڑھاتی ہوں، اور اب تک کوئی تنخواہ وصول نہیں کرتی، میں خود بھی طالبہ ہوں، مہنگائی کے اس دور میں میرے گھر والے کہہ  رہے ہیں کہ میں تنخواہ لیا کروں، اور  میری معلمہ جو کہ مدرسہ انتظامیہ میں بھی ہیں بھی زور دے رہی ہیں کہ میں بچیوں کی فیس میں سے تنخواہ لے لیا کروں، اور تم قرآن پڑھانے کی تنخواہ نہیں لے رہیں،  یہ جو تم وقت دے رہی ہو اس کی اجرت ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں تنخواہ لے سکتی ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ کے  لیے مدرسہ انتظامیہ سے تنخواہ مقرر کروا کر ہر ماہ تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے