بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا لمبے عرصے تک بیوی سے دور رہنے کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟


سوال

ایک آدمی ہے اس نے اپنی بیوی سے تقریباََ آٹھ سے نو مہینے سے ملاقات نہیں کی،  نہ کوئی بات چیت،  کچھ بھی نہیں،  کوئی تعلق نہیں،  تو اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا ان دونوں کے درمیان ان کا نکاح برقرار ہے یا ٹوٹ گیا ہے؟  اگر برقرار ہے تو اس کی کیا نوعیت ہے ؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟  اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟  تفصیلی بتا دیں۔ اور اگر ان کا نکاح ٹوٹ گیا ہے تو اگر دوبارہ نکاح قائم کرنا ہو تو اس میں کیا طریقہ کار ہے، وہ بھی بیان فرما دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  شوہر نے اپنی بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے ہیں اور نہ ہی دونوں کے درمیان خلع کا کوئی معاملہ ہوا ہے  تو اتنا عرصہ ایک دوسرے سے  دور رہنے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے، دونوں کا ساتھ رہنا بالکل جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201371

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے