بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا عقیقہ جاہلیت کی رسم ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تشریح


سوال

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  ایک عظیم فقیہ اور امام ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صل اللہ علیہ کی پیشن گوئی بھی موجود ہے اور وہ بھی قرآنی آیت کی تشریح میں تو جب ایسی عظیم الشان شخصیت نے "عقیقہ"  کو جاہلیت کے دور کی رسم کہا ہے، تو پھر ہمارے بعض علماءِ کرام عقیقہ کو سنت یا واجب کا درجہ کیوں دیتے ہیں؟  کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کو حدیث کا کم علم تھا؟

جواب

"عقیقہ"  مستحب ہے، بدعت نہیں ہے، عقیقہ کے بدعت ہونے کی نسبت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف کرنا غلط، بلکہ ان پر بہتان ہے۔

بعض کتب میں امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف جو یہ نسبت کی گئی ہے  "عقیقہ جاہلیت میں تھا، اسلام نے اسے منسوخ کردیا ہے" یا یہ کہ "عقیقہ سنت نہیں ہے"، تو محققین علماء نے اس کے درج ذیل مطلب بیان  کیے ہیں:

(1) جاہلیت میں عقیقہ واجب سجھا جاتا ہے، شروعِ اسلام میں اسی طرح تھا، بعد میں واجب ہونے کا حکم منسوخ ہوگیا، اب مستحب ہونے کا حکم باقی رہ گیا۔

(2) سنت نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ: سنتِ موکدہ نہیں ہے، بلکہ صرف مستحب  اور سنتِ غیر موکدہ ہے۔

(3)  ان حضرات کی مرادجاہلیت والے طریقے کی نفی کرنا ہے، مثلاً جانور کا خون سر پر ملنا وغیرہ  کہ یہ جاہلیت والا عقیقہ اسلام میں منسوخ ہے، لہٰذا جاہلیت والے طریقے پر عقیقہ نہیں کرنا چاہیے۔

(4) امام صاحب کے زمانہ میں لوگوں نے عقیقہ میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا تھا،  اور اسے قربانی کی طرح فرض اور واجب سمجھنے لگے تھے، اور اس میں خرافات شامل کرلی تھیں، اس لیے اس حدوود سے تجاوز کرنے کو امام صاحب نے مکروہ کہا۔

(5)  عقیقہ کے لیے لفظ عقیقہ کے استعمال کو ناپسند کیا گیا۔

حضرت امام صاحب کو علمِ حدیث کم تھا،یہ مخالفین اور معاندین کا پروپیگنڈہ ہے،تفصیل امام صاحب کی سیرت اور سوانح پر لکھی ہوئی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (21/ 83):
" وَقَالَ أَبُو حنيفَة: لَيست بِسنة. وَقَالَ مُحَمَّد بن الْحسن: هِيَ تطوع كَانَ النَّاس يفعلونها ثمَّ نسخت بالأضحى، وَنقل صَاحب (التَّوْضِيح) عَن أبي حنيفَة والكوفيين: أَنَّهَا بِدعَة، وَكَذَلِكَ قَالَ بَعضهم فِي شَرحه: وَالَّذِي نقل عَنهُ أَنَّهَا بِدعَة أَبُو حنيفَة. قلت: هَذَا افتراء فَلَا يجوز نسبته إِلَى أبي حنيفَة، وحاشاه أَن يَقُول مثل هَذَا، وَإِنَّمَا قَالَ: لَيست بِسنة فمراده، إِمَّا لَيست بِسنة ثَابِتَة، وَإِمَّا لَيست بِسنة مُؤَكدَة. وروى عبد الرَّزَّاق عَن دَاوُد بن قيس، قَالَ: سَمِعت عَمْرو بن شُعَيْب عَن أَبِيه عَن جده، سُئِلَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، عَن الْعَقِيقَة فَقَالَ: لَا أحب العقوق. قَالُوا: يَا رَسُول الله! ينْسك أَحَدنَا عَمَّن يُولد لَهُ؟ فَقَالَ: من أحب مِنْكُم أَن ينْسك عَن وَلَده فَلْيفْعَل عَن الْغُلَام شَاتَان مكافأتان، وَعَن الْجَارِيَة شَاة، فَهَذَا يدل على الِاسْتِحْبَاب".

فيض الباري على صحيح البخاري (5/ 647):
"وهي مستحبة، كما في «عالمكيرية». وفي «البدائع»: إنها منسوخة.
قلت: وإنما حملته عليه عبارة محمد في «موطئه» قال محمد: العقيقة بلغنا أنها كانت في الجاهلية، وقد جعلت في أول الإسلام، ثم نسخ الأضحى كل ذبح كان قبله ... إلخ. فلم أزل أتردد في مراد الإمام، حتى رأيت في كتاب «الناسخ والمنسوخ» عن الطحاوي أن محمداً قال في بعض أماليه: إن العقيقة غير مرضية. ثم تبين لي مراده، أنه كان يكره اسم العقيقة، لأنه يوهم العقوق، ولكونه من أسماء الجاهلية، ولأنهم كانوا  يفعلون عند العقيقة بعض المحظورات، كتلطخ الأشعار بدم الحيوان، مع ورود الحديث في النهي عن ذلك الاسم أيضاً، فكان مراده هذا.  ثم لاأدري ماذا وقع الخبط في النقل، حتى نسب إليه نسخ العقيقة رأساً، وليت شعري ما وجه عدم تغيير هذا الاسم بعد، مع نهي الحديث عنه، فينبغي أن لايجعل لفظه المبهم حاوياً على العقيقة أيضاً، بل مراده نسخ دماء الجاهلية، كالرجبية، والعتيرة. ثم عند الترمذي حديث: «أن الغلام مرتهن بعقيقته»، وأجود شروحه ما ذكره أحمد".
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 14):
"فأما حكمها فذهبت طائفة منهم الظاهرية إلى أنها واجبة. وذهب الجمهور إلى أنها سنة. وذهب أبو حنيفة إلى أنها ليست فرضاً ولا سنةً، وقد قيل: إن تحصيل مذهبه أنها عنده تطوع.
وسبب اختلافهم تعارض مفهوم الآثار في هذا الباب، وذلك أن ظاهر حديث سمرة، وهو قول النبي عليه الصلاة والسلام : «كل غلام مرتهن بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه، ويماط عنه الأذى» - يقتضي الوجوب. وظاهر قوله عليه الصلاة والسلام -وقد سئل عن العقيقة فقال- : «لا أحب العقوق، ومن ولد له ولد، فأحب أن ينسك عن ولده فليفعل» يقتضي الندب أو الإباحة. فمن فهم منه الندب قال: العقيقة سنة. ومن فهم الإباحة قال: ليست بسنة ولا فرض. وخرج الحديثين أبو داود. ومن أخذ بحديث سمرة أوجبها".

وکذا النکت الطریفة في التحدث عن ردود ابن أبي شیبة علی أبي حنیفة، کتاب العقیقة، (2/254) ط: دارالفتح.

أوجز المسالک ، کتاب العقیقة، (10/171) ط: دارالقلم ، دمشق.

اعلاء السنن، کتاب الذبائح، باب العقیقة، (17/112) ط: ادارة القرآن. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200893

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے