بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا رسولِ اکرم صلی علیہ وسلم لکھنا پڑھنا جانتے تھے؟


سوال

کیا آقا ﷺ دنیاوی لکھنا پڑھنا جانتے تھے؟  کوئی تحریر آقا ﷺ نے خود لکھی ہو یا پڑھی ہو دنیاوی، دینی نہیں؟  بحوالہ جواب عنایت فرمائیں!

جواب

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا بھی ہے، اس حوالہ سے جمہور محققین کی یہی رائے ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تا حیاتِ دنیویہ امی ہی رہے، نہ کوئی تحریر لکھی اور نہ پڑھی۔ البتہ آپ ﷺ  کی طرف سے تحریر لکھنے پر کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مامور  تھے، چوں کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فرامین تحریر کیا کرتے تھے جس کی بنا پر تاریخی حوالوں میں ان تحریرات کو مجازاً رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب کہا گیا ہے۔

اور صلح حدیبیہ میں معاہدے  کی کتابت کے موقع پر مشرکین نے جب رسول اللہ ﷺ کے نام کے ساتھ ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹانے پر اصرار کیا تو معاہدے کی کتابت کرنے والے صحابی (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے ’’رسول اللہ‘‘  کا لفظ مٹانے سے عذر کیا، اس پر بعض اہلِ علم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بطورِ معجزہ اپنے دستِ مبارک سے یہ تحریر فرمائی: "هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" (سیرۃ المصطفیٰ ﷺ، از مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ) حافظ ابن کثیر   اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ روایت کتابت کے حکم پر محمول کیا ہے، یعنی آپ ﷺ نے صحابی کو حکم دیا کہ یوں لکھیں، نہ کہ آپ ﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے لکھا۔

بہرحال اگر صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ کا بطورِ معجزہ یہ جملہ تحریر فرمانا ثابت ہو تو فبہا۔ تاہم بقیہ زندگی آپ ﷺ کا اپنے دست مبارک سے لکھنا (خواہ دینی تحریر ہو یا دنیاوی) اور لکھی ہوئی تحریر پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ (کما صرح بہ الزحیلی فی تفسیرہ المنیر) اور یہ آپ ﷺ کا معجزہ اور خصوصیت ہے۔ ’’امی‘‘ ہونا نبی ﷺ کے لیے معجزہ اور سببِ کمال ہے، امتی اور عام انسان کے لیے یہ سببِ کمال نہیں ہے۔ قال ابن كثير رحمه الله :

" وَهَكَذَا كَانَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ دَائِمًا أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، وَلَا يَخُطُّ سَطْرًا وَلَا حَرْفًا بِيَدِهِ، بَلْ كَانَ لَهُ كُتَّابٌ يَكْتُبُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ الْوَحْيَ وَالرَّسَائِلَ إِلَى الْأَقَالِيمِ، وَمَنْ زَعَمَ مِنْ مُتَأَخَّرِي الْفُقَهَاءِ -كَالْقَاضِي أَبِي الْوَلِيدِ الْبَاجِيِّ وَمَنْ تَابَعَهُ- أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَتَبَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ: "هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" فَإِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ رِوَايَةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ: (ثُمَّ أَخَذَ فَكَتَبَ): وَهَذِهِ مَحْمُولَةٌ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: ( ثُمَّ أَمَرَ فَكَتَبَ)، وَلِهَذَا اشْتَدَّ النَّكِيرُ بَيْنَ فُقَهَاءِ الْمَغْرِبِ وَالْمَشْرِقِ على من قال بقول الباجي، وتبرؤوا مِنْهُ، وَأَنْشَدُوا فِي ذَلِكَ أَقْوَالًا وَخَطَبُوا بِهِ فِي مَحَافِلِهِمْ، وَإِنَّمَا أَرَادَ الرَّجُلُ -أَعْنِي الْبَاجِيَّ، فِيمَا يَظْهَرُ عَنْهُ -أَنَّهُ كَتَبَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْمُعْجِزَةِ، لَا أَنَّهُ كَانَ يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، وَمَا أَوْرَدَهُ بَعْضُهُمْ مِنَ الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَمُتْ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى تَعَلَّمَ الْكِتَابَةَ ، فَضَعِيفٌ لَا أَصْلَ لَهُ ". ( تفسير ابن كثير، ٦/ ٢٨٥ - ٢٨٦)

وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله :

" وَقَدْ تَمَسَّكَ بِظَاهِرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ - يعني رواية يوم الحديبية - أَبُو الْوَلِيدِ الْبَاجِيُّ فَادَّعَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ بِيَدِهِ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ يُحْسِنُ يَكْتُبُ، فَشَنَّعَ عَلَيْهِ عُلَمَاءُ الْأَنْدَلُسِ فِي زَمَانِهِ وَأَنَّ الَّذِي قَالَه مُخَالف الْقُرْآنَ ... وَذكر ابن دِحْيَةَ أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الْعُلَمَاءِ وَافَقُوا الْبَاجِيَّ فِي ذَلِكَ، وَاحْتج بَعضهم لذَلِك بأحاديث، وَأَجَابَ الْجُمْهُورُ عنها بضعفها، وَعَنْ قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ بِأَنَّ الْقِصَّةَ وَاحِدَةٌ وَالْكَاتِبُ فِيهَا عَلِيٌّ، وَقَدْ صَرَّحَ فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بِأَنَّ عَلِيًّا هُوَ الَّذِي كَتَبَ، فمعنى (كتب) أي : ( أَمَرَ بِالْكِتَابَةِ ) ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ " .  (فتح الباري ملخصاً، ٧ / ٥٠٣ - ٥٠٤)

التفسير المنير للزحيليمیں ہے:

"وَما كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتابٍ، وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ، إِذاً لَارْتابَ الْمُبْطِلُونَ ( العنکبوت، ٤٨) ٥- النبي محمد صلّى الله عليه وسلّم قبل نزول القرآن كان أمياً لايقرأ ولايكتب بشهادة الكتب السماوية المتقدمة، وبمعرفة قومه الذين عايشوه في مكة مدة أربعين عاماً. وأمّية النبي صلّى الله عليه وسلّم دليل قاطع واضح على أن القرآن كلام الله العزيز الحكيم. ثم ذكر النقاش في تفسير هذه الآية عن الشعبي أنه قال: ما مات النبي صلّى الله عليه وسلّم حتى كتب، وقرأ. وقد ثبت في صحيحي البخاري ومسلم أن النبي في صلح الحديبية كتب بيده: محمد بن عبد الله، ومحا كلمة رسول الله، حينما أصر المشركون على عدم كتابتها. قال القرطبي: الصحيح أنه صلّى الله عليه وسلّم ما كتب ولا حرفاً واحداً، وإنما أمر من يكتب، وكذلك ما قرأ ولا تهجى. وقال: «إنا أمة أمّية لانكتب ولانحسب». رواه الشيخان وأبو داود والنسائي عن ابن عمر". ( ٢١ / ١٣)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے