بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا بڑے جانور میں سات سے کم حصہ کیے جاسکتے ہیں؟ / کیا قصائی کے جانور میں عقیقہ کی نیت سے حصہ ڈال سکتے ہیں؟


سوال

1-  اگر کوئی شخص گوشت فروخت کرنے کے لیے گائے ذبح کررہا ہے تو اس میں عقیقہ کی نیت سے کوئی شخص اپنا حصہ ڈال سکتا ہے؟

2- گائے میں سات حصے ضروری  ہیں؟  اگر چھ یا پانچ حصے ڈالیں تو کیا اس کی گنجائش ہے؟

جواب

1۔ عقیقہ قربانی کی طرح ایک قربت ہے، پس جس طرح  کسی ایسے جانور میں قربانی کا حصہ ڈالنے سے قربانی نہیں ہوتی جس کے بعض شرکاء کی نیت قربت نہ ہو،  بلکہ گوشت کا حصول ہو؛ تاکہ فروخت کرسکے، اسی طرح  عقیقہ کی  نیت سے کسی ایسے جانور میں حصہ نہیں ڈالا جا سکتا جس میں بعض افراد کی نیت قربت کے علاوہ کچھ اور ہو۔

2۔ بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات افراد کی شرکت کی اجازت ہے، تاہم اگر شرکاء سات سے  کم ہوں  تو اس صورت میں بھی شرکت جائز ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201056

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے