بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 رمضان 1439ھ- 28 مئی 2018 ء

دارالافتاء

 

کیا اپنا روزہ کسی اور سے رکھوا سکتے ہیں؟


سوال

کیا کوئی شخص بڑھاپے یا  بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھتا ہو تو ایسے شخص کے روزے کا کیا حکم ہے؟

آج کل لوگوں میں یہ رواج پا گیا ہے کہ ایسا شخص اپنے روزے کسی اور سے رکھوالیتا ہے اور افطار اپنے پیسوں سے کراتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا روزہ بھی ہوگیا اور میرا روزہ بھی ادا ہوگیا،کیا اس طرح کرنا شرعا درست ہے؟ اور کیا دونوں کو  روزے کا ثواب ملے گا؟

جواب

واضح رہے کہ عبادات کی تین اقسام ہیں:

١) عباداتِ بدنیہ:  یعنی وہ عبادت جو محض بدن سے ادا ہوتی ہو، جیسے نماز ،روزہ ، اعتکاف وغیرہ، اس قسم کی عبادت بذات خود ادا کرنا شرعاً ضروری ہے، اور اس میں نیابت( خود عبادت کرنے کے بجائے کسی اور کے ذریعہ عبادت کروانا) جائز نہیں ہے، اور اگر کسی نے اپنا نائب بنا بھی دیا تو فرض ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا۔

٢) عباداتِ مالیہ:  یعنی مالی عبادت ، جیسے زکات ،صدقات ،فطرہ ،فدیہ وغیرہ، اس قسم کی عبادت میں نیابت جائز ہے، اور  نائب کا مالی عبادت ادا کرنا ایسا ہی ہے جیسے اصل نے ادا کی۔

٣)   عبادتِ بدنیہ مالیہ: جیسے حج وغیرہ اس نوع کی عبادت میں بھی مخصوص شرائط کے ساتھ نیابت جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ وہ افراد جو رمضان میں سفر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے ان کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ جب صحت مل جائے یا جب مقیم ہوجائیں تو فوت شدہ  روزوں کی قضا کرلیں، اور وہ افراد جو ضعف یا لاعلاج بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے پر بالکل قادر نہ ہوں  ان کے لیے حکم یہ ہے کہ ہر روزہ کے بدلہ ایک فطرہ  کی رقم کے برابر فدیہ ادا کریں، بہر صورت اپنی جگہ  کسی اور سے روزہ رکھوانا درست نہیں ہے،جتنے روزے اس طرح کسی اور سے رکھوائے ہیں ان سب کی قضا کرنا ضروری ہوگا اور قضا نہ کرنے کی صورت میں آخرت میں پکڑہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200338


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں