بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کمپیوٹر سافٹویئر غیر قانونی طور پر ہیک کرنا


سوال

انٹرنیٹ پر کچھ کمپیوٹر سافٹ ویئر ایسے ہوتے ہیں جن کو خریدنے کے بعد استعمال کرنا پڑتا ہے (چند دن مفت استعمال کے لیے  دیتے ہیں اس کے بعد وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جب تک کہ ان کی قیمت ادا کر کے خرید نہ لیا جائے) مثلاً انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ منیجر، مائیکرو سافٹ آفس، کچھ لوگ انٹرنیٹ پر ایسے سافٹ ویئر کو ایکٹیویٹ کرنے کے طریقے بتاتے ہیں جس سے وہ سافٹ ویئر بنا ادائیگی کے ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے اور بعینہ ویسے کام کرنے لگتا ہے جیسا کہ ادائیگی کے بعد. اکثر بتائے گئے طریقے سے سافٹ ویئر کی اس فائل (جس میں ادائیگی ہوگئی ہے یا نہیں، اگر ہوئی ہے تو اس کی معلومات محفوظ ہوتی ہیں) کو اڑا دیا جاتا ہے یا اس میں جعلی معلومات درج کر کے اس کو مطمئن کر دیا جاتا ہے، پھر وہ فائل سافٹ ویئر کے چلنے میں رکاوٹ نہیں بنتی.  کیوں کہ ادائیگی بیرونی کرنسی میں کرنی ہو تی ہے جو پاکستان کی کرنسی میں نسبتاً مہنگا ہوتا ہے. لہذا لوگ جعلی طریقے سے ایکٹیویٹ کر کے کام چلاتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کاپی رائٹ سافٹ ویئر کو بریک کرنا، یا ہیک کرکے استعمال کرنا  قانونا جرم ہے، اور یہ دھوکا دہی کے زمرے میں آتا ہے، جوکہ شرعاً حرام ہے، کمپنی پالیسی کی خلاف ورزی کرنا اور قانوناً جرم کام کو اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا ایسے اقدام سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201706

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے