بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے ملازم کا کمپنی کا کام کرواکر اپنا کمیشن بل میں لکھوانا


سوال

میں ایک  اسٹیٹ ایجنسی میں ملازمت کرتا ہوں  جس میں میری تنخواہ بھی ہے اور ڈیل کرنے پر کمیشن بھی ہے، میں یہاں  شروع میں آؤٹ ڈور  کا  کا م کرتا  تھا  اور ساتھ ساتھ ڈاکومنٹس کا کام بھی کرتا تھا  جیسے کہ  taransfer mutation demolish permission     وغیرہ میں   وغیرہ۔  میری ان اداروں  کے لوگوں سے سیٹنگ  ہے ، انہیں بلواتا ہو ں، وہ مجھے خرچہ بتا دیتا ہے،  میں سب کام اس کو دے دیتا ہوں وہ ہر کا م خود ہی کرواتا ہے  جس کے پیسے بھی لیتا ہے یہ سب  باس کو معلوم ہے،  باس (مالک) ہی پیسے دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے آفس سے نہ  کلائنٹ  (کسٹمر) ملتے ہیں اور نہ ہی کچھ سیلز کے پروڈکٹ جو  ہم ایڈ لگاکر کلائنٹس بناسکیں ، میری تنخواہ 17 ہزار ہے اور 3 ہزار پیٹرول جس میں  یہ سب آفس میں کام کرتا ہوں، میں نے اپنی ڈیلز کی تھیں تو مجھے 25٪ کمیشن ملا، جب کہ بروکر کو آفس سے 40 فیصد ملتا ہے،  مجھے یہ کہا گیا کہ سیلر ی والےکو 25٪ ملتا ہے،  جب  کہ میں تنخواہ لیتا ہوں تو  آؤٹ ڈور کے لیے سب کام کرتا ہوں،  اب میں موٹیشن کا کام کرتا ہوں جو میں نے 3 سال سیکھا ہے، جس کے باہر لوگ ٹھیک ٹھاک پیسے لیتے ہیں، میرے باس مجھے یہ کام دیتے ہیں کلائنٹ کے، جب باس کوئی بنگلہ بیچتے ہیں تو اس کی کاغذی کاروائی مجھ سے کرواتے ہیں، یہ ٹرانسفر کرادو  پارٹی کے نام پر  جس کا خرچہ آتا ہے وہ باس کلائنٹ سے لیتے ہیں  ، جیسے خرچہ 50 سے 70 اور 80 ہزار بھی لیتے ہیں، اور کبھی جو خرچہ ہوا وہ لیتے ہیں  اب یہ بتائیں کہ میں جس سے کام کرواتا ہوں  اس سے یہ کہہ کر   کہ میں سب کام آپ سے کرواتا ہوں مجھے بھی کمیشن چاہیے،  اور وہ دس ہزار میرے بھی لے لے باس سے ، جو کہ باس نہیں دیتے، کلائنٹ سے لے دیتے ہیں،تو میرا ایسا کرنا صحیح ہے؟  کیوں کہ سب اس کام کے پیسے لیتے ہیں ،میں بھی چاہتا ہوں کہ اتنی بھاگ دوڑ کے بعد  کچھ پیسے مجھے بھی  بچیں۔

جواب

آفس والے اگر آپ سے کوئی کام کرنے کا کہیں  تو آپ   اس متعلقہ کام میں ان کے وکیل ہیں ، لہذا اس کام میں جتنا خرچہ آئے یا جتنی رقم میں وہ  کام ہوجائے اتنی ہی رقم  آپ کمپنی سے لے سکتے ہیں ، کام کم رقم میں کرواکر زیادہ رقم کا بل بنانا یا جس سے کام کروایا اس سے کہہ کر اپنا کمیشن بھی بل میں شامل کرانا  خیانت اور دھوکا دہی ہے ،  جو ناجائز ہے، اگرمذکورہ کام آپ کے فرائض میں داخل نہیں تو آپ کمپنی والوں سے اس کام کو منع کردیں یا ان سے پہلے بات کرکے اس کی الگ سے اجرت طے کرلیں۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

" أما لو قال الموكل: اشتر لي الدار الفلانية بعشرة آلاف درهم واشترى الوكيل بأقل من عشرة آلاف، فيكون قد اشترى للموكل. وقد عينت الدار التي ستشرى (بقيد الفلانية) ؛ لأنه إذا لم تعين كقولك (اشتر لي دارا في الحي الفلاني بعشرة آلاف درهم) واشترى الوكيل داراً في ذلك الحي بأقل من عشرة آلاف درهم، فإذا كانت قيمة تلك الدار عشرة آلاف درهم نفذ الشراء في حق الموكل. أما إذا كانت قيمتها أقل من عشرة آلاف درهم فلا ينفذ في حق الموكل".

(الکتاب الحادی عشر الوکالۃ، الباب الثالث،الفصل االثانی،المادۃ:۱۴۷۹ ،ج:۳؍۵۸۷،ط:دارالجیل)

وفیہ ایضاً:

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة". (الکتاب الحادی عشر الوکالۃ، الباب الثالث،الفصل االاول،المادۃ:۱۴۶۷ ،ج:۳؍۵۷۳،ط:دارالجیل) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے