بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کی جائز صورت


سوال

محلے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ہار جیت پر شرط لگائی جاتی ہے کہ جیت گئے تو ہارنے والے بال دیں گے، اس صورت میں کیا حکم ہے؟

دوسرا یہ کہ دونوں فریق ایک ایک بال جمع کروائیں کہ جیتنے والے کو دونوں ملیں گی، تو ایسا کرنے میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں مقابلے کے اندر جانبین (دونوں فریق) کی جانب سے مالی شرط لگانا ’’جوا‘‘ اور ’’قمار‘‘ کے حکم میں ہے ، اور ’’جوا‘‘و ’’قمار‘‘ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہذا اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر شرط ایک جانب سے لگائی جائے اور دوسری جانب سے کوئی انعام مقرر نہ کیا جائے یا انعام کسی ایسے ثالث کی طرف سے مقرر کیا جائے جو خود مقابلہ میں شامل بھی نہ ہو اور اپنی طرف سے بطورِ تبرع جیتنے والے کو انعام دے تو یہ صورت ممانعت میں داخل نہیں۔

لہذا سوال میں مذکورہ دونوں صورتوں میں  ’’جوا‘‘ اور ’’قمار‘‘ پایا جاتا ہے اور ’’جوا‘‘ او ر’’قمار‘‘ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لیے اس طرح کی شرط لگانے سے احتراز لازم اور ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200361


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں