بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی کب اجازت ہے؟


سوال

کرسی پر بیٹھ کر جماعت سے نماز پڑھنے کے کیا احکامات ہیں؟ کچھ لوگ فرض نماز میں ساتھ میں قیام بھی کرتے ہیں جس سے وہ صف سے آگے کی طرف ہو جاتے ہیں اور باقی نماز کرسی پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں؟

جواب

جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر قادر ہے، لیکن زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، یا قیام و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ یا شفا ہونے میں تاخیر یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو تو ان صورتوں میں وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور  بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ اسی طرح جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی زمین پر کرسکتا ہے توایسے شخص کے لیے اُتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چہ کسی چیز کا سہارا لے کر کھڑا ہونا پڑے، اس کے بعد وہ بقیہ نماز زمین پر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔

اور جو شخص زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے ساتھ زمین پر سجدہ کرنے پر بھی قادر ہو اُسے زمین پر ہی نماز پڑھنی چاہیے، یہ طریقہ سنت کے قریب ہے۔ اور اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں تو ایسی صورت میں شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ اور اس صورت میں اس کی نماز اشاروں والی ہوتی ہے، اور اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں ہے، وہ جس طرح سہولت ہو بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے، چاہے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے یا کرسی پر بیٹھ کر، البتہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لہذا جو لوگ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتے ہیں تو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں، اور اگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں مشقت ہوتو وہ کرسی پر بیٹھ کر فرض نمازیں، وتر اور سنن سب پڑھ سکتے ہیں۔

اور ایسی صورت میں (یعنی جب قیام پر قدرت نہ ہو، یا زمین پر سجدے کی قدرت نہ ہو) چوں کہ قیام ساقط ہوجاتاہے، اس لیے ایسے مریض کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ مکمل نماز بیٹھ کر ادا کرے، البتہ اگر قیام کے دوران  قیام کرے  اور رکوع وسجود بیٹھ کر اشارے سے کرے تو یہ بھی جائز ہے، لہٰذا ایسے مریضوں کے لیے اولیٰ یہی ہے کہ امام کی اقتدا میں بھی مکمل نماز بیٹھ کر ادا کریں، کیوں کہ یہ سجدے کے قریب بھی ہے، اور جماعت کی نماز میں صفوں میں خلل سے بھی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے