بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

کار اجارہ کے ذریعہ گاڑی نکلوانے کا حکم


سوال

کیا بینک سے گاڑی نکلوانا جائز ہے؟ مثلاً میزان بینک سے کار اجارہ پر گاڑی لینا جائز ہے؟ کیا ہم اس طرح گاڑی لے سکتے ہیں؟

جواب

ہماری تحقیق کے مطابق  مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے   کسی بھی بینک کے ذریعہ  گاڑی نکلوانا جائز نہیں کہ اس میں ابتداءً اجارہ (کرایہ داری کا معاملہ) اور انتہاءً بیع (خریداری کا معاملہ) ہوتا ہے، اور ایسا معاملہ شرعاً جائز نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200609

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں