بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

کئی قسموں کا کفارہ


سوال

 ایک شخص اپنی پندرہ مختلف قسموں کا کفارہ -/15000 دینا چاہتا ہے۔ مسئلے کی رو سے ایک قسم کا کفارہ یعنی ہزار روپیہ ایک ہی دن میں ایک ہی مسکین کو دینا منع ہے۔ تو کیا ان مختلف قسموں میں سے ہر قسم کا کفارہ سو سو کے حساب سے 1500/- ایک ہی دن میں ایک ہی مسکین کو دے سکتا ہے؟

جواب

کئی قسموں میں حانث ہونے کی صورت میں جب تک پہلی قسموں کا کفارہ ادا نہ کیا ہو تو ایک ہی کفارہ سب کی طرف سے کافی ہوتا ہے، اس لیے  پندرہ قسموں کا ایک ہی کفارہ ادا کردینا کافی ہے ، پندرہ کفارے ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

( لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ )
ترجمہ: اللہ تمہاری مہمل قسموں پر تو گرفت نہیں کرے گا، لیکن جو قسمیں تم سچے  دل سے کھاتے ہو ان پر ضرور مواخذہ کرے گا ( اگر تم ایسی قسم توڑ دو تو) اس کا کفارہ  دس مسکینوں کا اوسط درجے کا کھانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کی پوشاک ہے یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے، اور جسے میسر نہ ہوں وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم اٹھا کر توڑ دو ۔ اور (بہتر یہی ہے کہ) اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ [ المائدۃ:89]

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع، وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد، قال صاحب الأصل : هو المختار عندي اھ مقدسي  ومثله في القهستاني عن المنية". (3/714)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے