بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1440ھ- 27 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

ڈیری ملک چاکلیٹ کھانے کا حکم


سوال

یہ جو آج کل خبریں چل رہی ہیں کہ فلاں چیز نہ کھاؤ، جیسے کہ ڈیری ملک چاکلیٹ، اور باقی چیزیں ہیں  کہ اس میں سور جو کہ حرام جانور ہے کی چربی استعمال ہوتی ہے  تو کیا واقعی یہ چیزیں کھانے کا گناہ ہوگا؟

جواب

جو ڈیری ملک چاکلیٹ پاکستان میں بنائی جاتی ہو یا کسی اسلامی ملک مثلاً:ملائیشیا وغیرہ سے درآمد کی جاتی ہو ایسی ڈیری ملک بلاتردد کھاسکتے ہیں۔

اور جو ڈیری ملک چاکلیٹ کسی غیر مسلم ملک میں بنی ہو اور اسے وہاں سے درآمد کیا گیا ہو اس کے استعمال میں احتیاط بہتر ہے، البتہ جب تک کسی چیز میں حرام اجزاء شامل ہونے کا قطعی علم نہ ہو اس وقت تک اس کے استعمال میں حرج نہیں۔

ہاں اگر یقین اور تحقیق کے ساتھ معلوم ہوجائےکہ اس میں حرام اجزا شامل ہیں تو اس کا استعمال ناجائز ہوگا۔

باقی اشیاء کا بھی یہی حکم ہے۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909200477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے