بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

ڈبیٹ کارڈ سے خریداری پر ملنے والے پوائنٹ کا حکم


سوال

میں سعودیہ میں رہتا ہوں، سوال یہ پوچھنا ہے کہ ڈیبٹ کارڈ سے خریداری کرنے میں جو پوائنٹ جمع ہوتے ہیں، ان کو استعمال کرنا کیسا ہے؟ کیا ان سے خریداری کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر یہ پوائنٹ بینک کی طرف سے ملتے ہیں تو اس صورت میں رعایت حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے، اور غالب یہی ہے کہ یہ پوائنٹ بینک ہی کی طرف سے ملتے ہیں ، لیکن  اگر یہ رعایت  اس ادارے کی جانب سے ہو جہاں سے خریداری کی جارہی ہے تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا، اور اگر رعایت دونوں کی طرف سے ہو تو بینک کی طرف سے دی جانے والی رعایت درست نہ ہوگی اوراگر معلوم نہ ہوسکتا ہو تو پھر اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے