بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایامِ تعطیل کی تنخواہ


سوال

  بندہ ایک اسکول میں ٹیچر تھا اور ٹیچنگ کا سلسلہ اپریل سے شروع ہوا تھا،جب مئی کی ۱۵ تاریخ کو اسکولوں کی چھٹیاں ہوئیں تو بندہ کو اسکول والوں نے صرف مئی کے پندرہ دنوں کی تنخواہ دی جب کہ دوسرے ٹیچرز کو مئی کے ساتھ جون کی بھی پوری تنخواہ دی اور جولائی کی اگست میں دیں گے، اور اس کے ساتھ بندہ کو بغیر وجہ بتائے اسکول سے دست بردار بھی کیا گیا، سوال یہ ہے بندہ اسکول والوں سے مئی اور جون جولائی کی تنخواہ وصول کرنے کا حق رکھتا ہے؟ جب کہ بندہ کو اسکول والوں نے اس وقت جب کہ بندہ ٹیچر لگا اپنی کوئی ایسی پالیسی بھی نہیں بتائی کہ نئے استاد کو جون جولائی کی سیلری ملتی ہے یا نہیں اور عرف عام میں بھی کوئی ایسی بات نہیں کہ نئے استاد کو جون جولائی کی سیلری نہ ملتی ہو ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اسکول والےبچوں سے فیسیں وصول کرتے ہیں جس سے ٹیچروں کو تنخواہ دی جاتی ہے اگر اسکول والے اپنی طرف سے کوئی ایسا قانون بنائے کہ نئے استاد کو جون جولائی کی سیلری نہیں دیں گے تو یہ شریعت کی رو سے جائز ہے جب کہ استاد کا گزر بسر اسی تنخواہ پرہو؟

جواب

کسی بھی ادارے کی انتظامیہ کو اپنی سہولت کے مطابق ملازمین رکھنے اور نکالنے کااختیار ہوتا ہے، اور ملازم مقرر کرتے وقت جو معاہدہ دونوں کے مابین طے پاجائے اسی کے مطابق عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔  اگر کوئی معاہدہ نہ ہو تو عرف پر فیصلہ ہوتا ہے اور ہمارے تعلیمی اداروں کا یہی عرف ہے کہ چھٹیوں کے ایام کی تنخواہ ان اساتذہ کو د جاتی ہے جن کو ملازمت کرتے ہوئے ایک سال ہوگیا ہو؛  لہذا اگر سائل کا تقرر رواں اپریل میں ہی ہوا تھا تو وہ جون جولائی کی تنخواہ لینے کا حق دار نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909200616

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے