بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

چوری کی بجلی استعمال کرنے والا بھی گناہ گار ہوگا


سوال

اگر ایک بندہ چوری کی بجلی لگاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد وہ بندہ اس جگہ سے چلاجاتا ہے اور اس کی جگہ پر آنے والا بندہ اگر یہ بجلی استعمال کرے تو اس کا گناہ پہلے والے بندے کے سر ہوگا یا نہیں؟ کیوں کہ بجلی پہلے والے بندے نے لگائی ہے،  نیز بجلی مجبوری کے تحت لگای گئی ہے۔

جواب

یہ جانتے ہوئے کہ یہ بجلی چوری کی ہے  پھر بھی اس کو استعمال کرنا  سراسر ناجائز اور حرام ہے۔ بجلی لگانے کا اور چوری کا ذریعہ بننے کا گناہ لگانے والے کےذمہ ہوگا، البتہ  استعمال کرنے کا گناہ استعمال کرنے والے  کے ذمہ ہوگا ۔

 حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص کسی مسروقہ ( چوری شدہ) چیز کو خریدے حال آں کہ وہ جانتا ہو کہ یہ چیز چوری کی ہے تو وہ عار اور گناہ میں اس چور کے ساتھ شریک ہو گیا ۔

اس لیے اگر بعد میں آنے والے کو پتا ہے کہ یہ بجلی چوری کی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قانونی طریقے سے بجلی کا کنکشن جاری کروائے اور جتنی بجلی استعمال ہوئی ہے متعلقہ ادارے کو اس کے واجبات کی ادائیگی کی سعی کرے۔

"عن أبي هریرة عن النبيأنه قال: من اشتریٰ سرقةً و هو یعلم أنه سرقة فقد شرک في عارها و إثمها". (المستدرک للحاکم، مکتبه نزار مصطفی الباز، بیروت۳/۸۵۲، رقم:۲۲۵۳)

"لأن السرقة في اللغة: أخذ الشيء من الغیر علی سبیل الخفیة والاستسرار بغیر إذن المالک، سواء کان المأخوذ مالاً أو غیر مالٍ … قال اللّٰه تعالیٰ: {اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ}". (معجم المصطلحات والألفاظ الفقهیة۲؍۲۶۳فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے