بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

چوری شدہ بکری جس کے گھر سے ملی اس سے تاوان لینا / فیصلہ میں قرآن پر پیسے رکھنا


سوال

 ہمارے ہاں ایک بار بکری چوری ہوئی، ہم نے سراغ لگانا شروع کیا، تو وہ بکری ہمارے گھر کے قریب ہی ایک گھر میں سے ملی، جو وہاں کمرے میں بندھی  ہوئی تھی، جب اس پر جرگہ بیٹھا اور معاملہ آخر تک پہنچا تو جس گھر سے بکری ملی تھی انہوں نے چوری تو تسلیم نہیں کی،لیکن بکری کا تاوان دینے کو تیار ہو گئے ،جب تاوان لینے گئے تو انہوں نے تاوان کی رقم (جو تقریباً 10000 تھی) قرآن پر رکھ دی، اب جس کی بکری تھی اسے رقم لینا تھی، لیکن جب  اس نے قرآن پر رقم رکھی دیکھی تو نہیں  اٹھائی, ہمارے پوچھنے پر اس نے کہا کہ چاہے حق پر ہو پر قرآن پر رکھے پیسے نہیں لیتے .

پوچھنا یہ تھا کہ چوری تو تسلیم نہیں  کی، اس پر تاوان لینا کیسا ہے ؟ حالاں کہ بکری ہماری ہی تھی .

 2۔ کسی بھی معاملے میں قرآن پر پیسے رکھنا کیسا ہے ؟

 3۔آیا قرآن پر سے رقم نہیں اٹھانی چاہیے اگرچہ وہ حق پر ہو ؟ ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ قرآن پر سے رقم نہیں اٹھانی چاہیے،  اگر اٹھا لی تو اس پر مصیبت آتی ہے اگرچہ وہ حق پر ہو .

جواب

 شریعتِ مطہرہ میں  فریقین میں باہم فیصلہ کے لیے جو ضابطہ ہے وہ یہ ہے کہ مدعی  یعنی دعویٰ کرنے والے کے ذمہ گواہ پیش کرنا لازم ہیں، اور اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں یا وہ پیش نہ کرسکے تو جس پر دعوی ہے  اس پر قسم ہے، اگر وہ قسم کھالے تو فیصلہ اس کے حق میں  ہوجاتا ہے اور اگر وہ قسم کھانے سے انکار کردے یا مدعی گواہ پیش کردے تو دونوں صورتوں میں فیصلہ مدعی کے حق میں ہوگا۔

اس ضابطہ کے بعد  صورتِ مسئولہ کا حکم  یہ ہے کہ   جب آپ کی بکری پڑوس کے گھر سے ملی  تو اگر وہ زندہ  ہے اور وہ لوگ آپ کو دینے کے لیے بھی تیار ہیں، اور قسم کھاکر کہہ بھی رہے ہیں ہم نے چوری نہیں کی اور ان کے چوری کرنے پر آپ کے پاس کوئی شرعی گواہاں بھی نہیں ہیں تو اس صورت میں  آپ بکری واپس لے لیں ، اس کے علاوہ ان کے  ذمہ کوئی تاوان وغیرہ لازم  کرنا شرعاً  درست نہیں ہے۔

اور اگر بکری زندہ نہیں ہے  تو اس صورت میں اس کے تاوان کے لیے آپ کو دو شرعی گواہوں کے ذریعے  یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے بکری چوری کی ہے، یا جس پر الزام ہے اس  کا اقرار کرنا ضروری ہوگا، اور   اگر  آپ گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کرسکتے   اور وہ اقرار بھی نہیں کرتا  تو ایسی صورت میں  مذکورہ پڑوسی کے ذمہ قسم آئے گی، اگر وہ قسم کھا لے تو وہ بری ہوجائے گا۔

2۔۔ قرآن پاک پر پیسے رکھنا خلافِ ادب ہے،  البتہ اگر رفعِ نزاع کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ جس شخص پر الزام ہے وہ رقم قرآن مجید کے پاس رکھ دے اور مدعی سے کہا جائے کہ اگر واقعی یہ تمہارا حق ہے تو قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر یہ رقم اُٹھالو، رقم اُٹھانے والا اگر جھوٹا ہوگا تو اس پر وبال پڑے گا۔ ( مستفاد : آپ کے مسائل اور ان کا حل)

3۔۔  اگر کوئی شخص حق پر ہو اور فریقِ مخالف پیسہ قرآن مجید پر رکھ لے تب  بھی  دوسرا فریق اپنے حق کی  رقم اٹھاسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201453

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے