بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1440ھ- 27 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

چرس پینے کا حکم


سوال

 چرس پینا کیوں حرام ہے ؟ کیوں کہ بعض علماء اس کو مکروہ  قرار دیتے ہیں۔  قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل سے واضح فرمائیں!

جواب

چرس نشہ آور اشیاء میں سے ہے اور نشہ آور اشیاء کا استعمال شرعاً حرام ہے۔مسلم شریف میں ہے:

"2001... حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأت على مالك عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن "البتع"؟ فقال : كل شراب أسكر فهو حرام". (باب بيان أن كل مسكر خمر وأن كل خمر حرام)

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"الجواب : گانجا ، چرس ، افیون ، بھنگ یہ سب چیزیں ناپاک نہیں ،ان کا کھانا تو حرام ہے ؛اس لیے کہ نشہ لانے والی ہیں یا نشے جیسے آثار و نتائج پیدا کرتی ہیں ۔۔۔ الخ (کفایت المفتی، کتاب الاشربۃ، (13/256) ط: مکتبہ فاروقیہ)فقط و اللہ اعلم"

نیز  کسی بھی حکم کی علت اگر  مقیس میں مقیس علیہ سے زیادہ قوی ہو، یاکم از کم  مقیس علیہ کے مساوی ہو، تو جو حکم مقیس علیہ کا ہوتا ہے وہ حکم مقیس کا بھی ہوتا ہے، احناف کے ہاں اس کو دلالۃ النص سے ثابت شدہ حکم کہتے ہیں اور دلالۃ النص سے ثابت شدہ حکم نص ہی کی مانند ہوتا ہے۔ اور  چرس اور شراب میں پائی جانے والی علت حرمت یعنی نشہ آور ہونا دونوں میں  برابر ہے، چنانچہ دلالۃ النص کے قاعدے کے مطابق دونوں کا حکم یکساں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200635

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے