بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

چار رکعت سنتِ مؤکدہ میں پہلے قعدہ کا حکم


سوال

چار رکعت سنت مؤکدہ میں پہلا قعدہ فرض ہے یا واجب؟

جواب

چار رکعت سنت مؤکدہ میں پہلا قعدہ واجب ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 465):

"(والقعود الأول) ولو في نفل في الأصح.

 (قوله: ولو في نفل)؛ لأنه وإن كان كل شفع منه صلاة على حدة حتى افترضت القراءة في جميعه، لكن القعدة إنما فرضت للخروج من الصلاة، فإذا قام إلى الثالثة تبين أن ما قبلها لم يكن أوان الخروج من الصلاة فلم تبق القعدة فريضة؛ وتمامه في ح عن وتر البحر.

(قوله: في الأصح) خلافاً لمحمد في افتراضه عن قعدة كل شفع نفل، وللطحاوي والكرخي في قولهما: إنها في غير النفل سنة، لكن في النهر قال في البدائع: وأكثر مشايخنا يطلقون عليه اسم السنة إما لأن وجوبه عرف بها أو لأن المؤكدة في معنى الواجب، وهذا يقتضي رفع الخلاف".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے