بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پیٹ کے بل الٹا سونے کی ممانعت


سوال

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے الٹا لیٹ کر سونے سے کیوں منع فرمایا؟

جواب

پیٹ کے بل الٹا لیٹنے سے احادیثِ مبارکہ میں ممانعت آئی ہے، اور  ان احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس ممانعت کی وجوہات بھی بتادی ہیں کہ جہنمی اس طرح لیٹیں گے، نیز یہ اللہ کو ناپسند ہے، اور شیطان کے سونے کا طریقہ ہے، نیز  اس طرح الٹا سونا صورتاً بھی قبیح اور برا ہے ، اور طبی لحاظ سے صحت کے لیے بھی مضر اور نقصان دہ ہے۔

حدیثِ مبارک میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلاً مضطجعاً على بطنه فقال: «إن هذه ضجعة لايحبها الله» . رواه الترمذي".
ترجمہ:  حضرت ابوہریرہ  ؓ  کہتے ہیں کہ ایک دن رسولِ اکرم ﷺ نے ایک شخص کو اوندھا یعنی پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اس طرح سے لیٹنا اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔

ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے:

" وعن أبي ذر قال: مر بي النبي وأنا مضطجع على بطني فركضني برجله، وقال: يا جندب إنما هي ضجعة أهل النار. رواه ابن ماجه".
ترجمہ: " اور حضرت ابوذر  ؓ  کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے جب کہ میں اپنے پیٹ کے بل یعنی اوندھا لیٹا ہوا تھا آپ نے یہ دیکھ کر اپنے پاؤں سے مجھے متوجہ کیا اور فرمایا: جندب! (حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا نام ہے) تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح لیٹنا دوزخیوں کا طر یقہ ہے۔

ملاعلی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں :  ”اس کی وجہ یہ ہے کہ سجدہ کے علاوہ عام حالات میں سینہ اور چہرہ جو کہ اشرف الاعضاء ہیں ان کو زمین پر رکھنا گویا ان کی تذلیل کرنا ہے،  یا بدفعلی کرنے والے سے مشابہت ہوتی ہے جو کہ مذموم اور ناپسندیدہ ہے"۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2980):
" (لا يحبها الله) : لأن وضع الصدر والوجه اللذين من أشرف الأعضاء على الأرض إذلال في غير السجود، أو هذه الضجعة رقدة اللواطة، فالتشبيه بهم مذموم، وسيأتي في الحديث أنها ضجعة يبغضها الله، وفي حديث إنما هي ضجعة أهل النار. (رواه الترمذي)".

حجۃ الامام شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہئیت انتہائی منکر اور قبیح ہے؛ اس لیے اس سے ممانعت کی گئی ہے۔

حجة الله البالغة (2/ 308):
"وقال صلى الله عليه وسلم للمضطجع على بطنه: " إن هذه ضجعة يبغضها الله ". أقول: وذلك؛ لأنها من الهيآت المنكرة القبيحة".

نیز یہ طبی اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے، اس میں دیگر مضرتوں کے علاہ ایک یہ بھی ہے اس سے آنتوں میں کبھی گانٹھ  پڑجاتی ہے، اور آنتوں کو نقصان بھی پہنچتا ہے، لہذا پیٹ کے بل الٹنا نہیں سونا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201549

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے