بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پچاس ہزار نقد رقم ملکیت میں موجود ہونے کی صورت میں زکات وصول کرنا


سوال

ایک شخص کے پاس پچاس ہزار نقد رقم  ہے جو اس نے اپنی تن خواہ سے بہت محنت سے جمع کیے ہیں، وہ کرایہ کے گھر میں رہتا ہے، اپنا ذاتی کوئی مکان نہیں رکھتا، خرچہ بھی انتہائی تنگ دستی سے کرتا ہے، کیا ایسا شخص زکات کا مستحق ہے؟

جواب

جس شخص کی بچت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر یا اس سے زائد نقد موجود ہو  وہ شریعت کی رو سے زکات کا مستحق نہیں  ہے، اس سال سرکاری اعلان کے مطابق 44 ہزار 415 روپے زکات کا نصاب ہے، لہذا جس شخص کی ملکیت میں پچاس ہزار موجود ہوں وہ  صاحبِ نصاب ہے اورزکات کامستحق نہیں ہے۔

ہاں اگر یہ شخص ضرورت مند ہے، اور اپنی ضرورت میں پہلے اپنے پاس موجود رقم سے خرچ کرلے اور اس کی ملکیت میں نصاب سے کم رقم بچ جائے تو پھر ایسے شخص کے لیے زکات لینا اور اس کو زکات دینا جائز ہوگا، یا اس کے گھر میں کوئی اور مستحق ہو تو اسے زکات کی رقم کا مالک بنادیا جائے، بشرط یہ کہ مذکورہ شخص یا جو بھی زکات وصول کرے وہ سید، ہاشمی نہ ہو۔ 

اسی طرح اگر یہ شخص مقروض ہو اور قرض منہا کرنے کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر رقم نہ بچتی ہو تو بھی اسے زکات دی جاسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے