بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پندرہ شعبان کے بعد نفل روزے رکھنے کا حکم


سوال

پندرہ شعبان کے بعد نفل روزہ رکھنا منع ہے ۔ کیا جو لوگ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کے عادی ہیں ان کو بھی پندرہ شعبان کے بعد نفل روزہ رکھنا منع ہے؟

جواب

پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنا اس شخص کے لیے مکروہ ہے جس نے شعبان کے نصفِ اول میں کوئی روزہ نہیں رکھا،  یہاں تک کہ جب نصفِ آخر شروع ہوا تو روزہ رکھنا شروع کردیا،  جیسا کہ فتح القدیر(2 / 316)میں ہے:

"الثالث: ما أخرج الترمذي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا بقى النصف من شعبان فلاتصوموا". وقال: حسن صحيح، لايعرف إلا من هذا الوجه على هذا اللفظ، ومعناه عند بعض أهل العلم: أن يفطر الرجل حتى إذا انتصف شعبان أخذ في الصوم".

لہذا جو شخص ہر پیر وجمعرات کو  یا ہر ماہ کے آخری تین دن روزہ رکھنے کا عادی ہو، یا نصفِ اول میں بھی وہ روزہ رکھتا ہو ، اس کے لیے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200150

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے