بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ خریدتے وقت تجارت کی نیت میں شک ہو تو اس پر زکوۃ کا حکم


سوال

میں ایک پلاٹ خرید رہا ہوں،  آفس سے قرض لیا ہوا ہے،  پلاٹ میں میری نیت طے نہیں ہے،  گھر بھی بنا سکتا ہوں  یا کچھ سال بعد بیچ دوں گا،  آیا اس پلاٹ  پر  زکات کا کیا حکم  ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ  پلاٹ کو خریدتے وقت حتمی طور پر تجارت کی نیت نہیں ہوگی،  لہٰذا یہ پلاٹ  تجارتی مال میں شامل نہیں ہوگا، اور اس پر زکات فرض نہیں ہوگی۔ 

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 168):
"(ومن اشترى جاريةً للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة)؛ لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة)؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں