بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1440ھ- 15 نومبر 2018 ء

دارالافتاء

 

پرچم کو سلامی دینا، شہیدوں کو اور قبروں پر سلامی دینے کا حکم


سوال

1۔ اسکول اسمبلی میں پرچم سلام جائز ہے ؟

2۔ شہیدوں، جنازہ یا قبر پر سلامی دینا جائز ہے؟

جواب

1۔۔ اسلامی جھنڈے کی حفاظت اور سربلند رکھنے کو کوشش فی نفسہ مستحسن ہے، اسی طرح اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے ملک کے جھنڈے کا احترام  کرنا،  اسے بلند رکھنا  اور اس کے اسلامی  مقاصد کے حصول کوشش کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔  نیز عرف میں     کسی بھی ملک کا جھنڈا اور پرچم اس ملک کی عزت، بلندی، اور شان کا نشان ہوتا ہے، لہذا اگر دیگر خرافات مثلاً: میوزک، مخلوط ماحول وغیرہ سے بچتے ہوئے کوئی ملکی حمیت میں جھنڈے کو سلامی دے  اور اسے دین سمجھ کر نہ کیا جائے  تو اس کی گنجائش ہے، لیکن نہ کرنا زیادہ بہتر ہے،  یہ ملحوظ رہے کہ یہ محض رسمی چیز ہے، فوجی طریقہ ہے، اسلامی طریقہ نہیں ہے اور نہ ہی سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت ہے، لہذا اس کو دین سمجھ کرنہ کیا جائے اور نہ ہی نہ کرنے والوں پر نکیر کی جائے۔

فتاوی رحمیہ میں ہے:

"یہ محض سیاسی چیز ہے اور حکومتوں  کا طریقہ ہے ،اسلامی حکومتوں  میں  بھی ہوتا ہے ، بچنا اچھا ہے، اگر فتنہ کا ڈر ہوتو بادل ناخواستہ کرنے میں  مؤاخذ نہیں  ہوگا، انشاء اﷲ ۔ اس کے متعلق حضرت مولانا مفتی کفایت اﷲ صاحب رحمہ اﷲ کا فتویٰ ملاحظہ ہو ۔

’’جھنڈے کی سلامی مسلم لیگ بھی کرتی ہے اور اسلامی ملکوں  میں  بھی ہوتی ہے وہ ایک فوجی عمل ہے اس میں  اصلاح ہوسکتی ہے مگر مطلقاً اس کو مشرکانہ عمل قرار دینا صحیح نہیں  ہے"۔(10/180، ط: دارلاشاعت)

2۔۔  قبور پر حاضری وغیرہ سے متعلق اسلامی تعلیمات  یہ ہیں کہ قبرستان میں جاکر  یا کسی خاص قبر پر جاکر سب سے پہلے اہلِ قبور کو سلام کہنا چاہیے ، اس کے الفاظ حدیث میں یہ آتے ہیں: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ»۔ 

اس کے علاوہ بھی سلام کے  مختلف الفاظ احادیث میں آئے ہیں، ان میں سے کوئی سے الفاظ کہہ لے، اگر وہ یاد نہ ہوں تو “السلام علیکم” ہی کہے، اور پھر جس قدر ممکن ہو ان کےلیے  دُعا و اِستغفار کرے، اور قرآن مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب کرے۔ بعض روایات میں سورہٴ یٰسین، سورہٴ تبارک الذی، سورہٴ فاتحہ سورہٴ زلزال، سورہٴ تکاثر اور سورہٴ اِخلاص اور آیت الکرسی کی فضیلت بھی آئی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ قبر کی طرف منہ اور قبلے کی طرف پشت کرکے کھڑا ہو، اور جب دُعا کا ارادہ کرے تو قبر کی طرف پشت اور قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو۔(ماخوز بتغیر یسیر آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/404)  

لہذا قبروں پر  یا جنازہ کو سلامی دینا یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے  اور یہ  شرعاًجائز نہیں ہے۔ یہ فرنگی طریقہ ہے کہ بڑے اور صلاحیتوں کے حامل شخص کے جنازہ اور قبر پر سلامی دیتے ہیں ، اسلام نے مسلمان مردوں کا حق نمازِ جنازہ کی صورت میں متعین کردیا ہے، جسے ادا کرنا زندہ مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے،اسلامی ادوار میں انبیاء کرام، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین اور کئی صلاحیتوں کے حامل بڑے بڑے اشخاص گزرے ہیں ،ان میں سے کسی کو مروجہ سلامی نہیں دی گئی،  اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

مشكاة المصابيح (1/ 552):
"وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201833


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں