بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

پرائزبانڈ سے حاصل ہونے والی آمدنی مسجد میں لگانا


سوال

کیا پرائز بانڈ کی رقم بغیر ثواب کی نیت کیے مسجد کے چندے میں دی جا سکتی  ہے؟یا تبلیغ میں جا نیوالے شخص کو یا ان کے گھر والوں کو خرچے کے لیے دی جا سکتی ہے ؟

جواب

حرام مال اگر اصل مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو مالِ حرام کا مصرف مستحقِ زکاۃ ہے اور اسے بلانیتِ ثواب رقم کا مالک بنادیا جائے، لہذا پرائز بانڈ سے حاصل ہونے والی حرام آمدنی مسجد میں لگانا جائز نہیں ۔ تبلیغ میں جانے والا شخص اگر مستحقِ زکاۃ ہےتو اسے یہ رقم دے سکتے ہیں، تاہم حرام کی رقم لے کر جماعت میں جانا مناسب نہیں، اسباب نہ ہوں تو مقام پر محنت کریں۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143908200645

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں