بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پارٹنر شپ کی ایک صورت


سوال

 میری ایک بس ہے  اور جاب بھی کرتا ہوں  ابوظہبی میں. حا ل ہی میں ایک دوست نے کہا کہ میرے ساتھ پاٹنر شپ کر لو،  اب میرے پاس بھی اتنا ٹائم نہیں ہے کہ بس کی دیکھ بھال کر وں،   اس کی ایک بس ہے اور ایک میری،  ایک تیسری اس نے بس لی ہوئی ہے،  اب دیکھ بھال وہ کرے گا اور اپنی تنخواہ بھی لے گا ،  اور جو بھی کمائی اور خرچہ ہوگا آپس میں برابر برابر تقسیم ہوگا. میں نے خود ایک کمپنی کا کام پکڑ ا ہواہے. اور پاٹنر شپ سے پہلے بھی میں نے اسے کام دیا ہوا تھا،  ٹرپ ریٹ کے حساب سے، اور وہ کر رہا تھا.

میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی میں اسی ریٹ کے حساب سے اس کے ساتھ چلتا رہوں یا کہ جس ریٹ پر میں نے کام پکڑ ا ہوا ہے وہ حساب سے مہینے کے آخر میں حساب کروں. اور اگر وہ پوچھے کہ ٹرپ کا کیا ریٹ ہے تو جو صحیح ہے وہ بتاؤں یا کہ جو ریٹ اگر باہر دو‌ں تو گاڑی مل جا تی ہے،  وہ بتاو‌ں اور اوپر والی رقم حساب میں نہ ڈالوں،  وہ اپنی جیب میں رکھ لوں؟  یہ سوچ کر کہ  میرا کام ہے  تو جس ریٹ پہ گاڑی باہر سے ملتی ہے،  وہی اسے بتاؤں، مثال کے طور پر میری کمپنی سے 6000 درہم میں بات ہوئی ہے،  اور اگر باہر سے میں بس لگاؤں تو  5000 میں بھی مل جاتی ہے  تو  اس صورت میں مجھے  1000 درہم بچ جاتا ہے. اور اگر اس کو بھی 5,000 بتاتا ہوں تو ایسا کرنا ٹھیک ہے کہ جھوٹ اور حرام کے زمرے میں آتا ہے.  اور اگر میں 6,000 بتاتا ہوں تو ایسی صورت میں 500 درہم اس کو چلا جائے گا، حال آں کہ اس موضوع پر نہ میں نے اس سے پوچھا ہے کہ جو ریٹ دوسرے کام کا مجھے بتا رہا ہے وہ پورا بتا رہا ہے یا کہ کم بتا رہا ہے. اور اگر وہ پورا بتا بھی رہا ہے تو پھر بھی میرا ریٹ (5000) اس کے ریٹ سے صحیح ہے. اس ساری صورت حال میں میری راہ نمائی فرمائیں. اور اگر وہ کام میں ہیرا پھیری کرتا ہے،  جھوٹ یا کسی کو کام میں دھوکا دیتا ہے. اور مجھے اس کا علم نہیں ہوتا تو کیا میرے لیے کمائی کا جو بھی حصہ آئے گا حلال ہو گا؟ 

جواب

واضح رہے کہ  پارٹنرشپ (شراکت داری) میں کام کرنے والے پارٹنر کے لیے نفع تقسیم کرنے سے پہلے متعین تنخواہ لینا جائز نہیں ہے،  البتہ کام کرنے کی وجہ سے نفع کی تقسیم میں اس کے نفع کا تناسب زیادہ طے کیا جاسکتا ہے۔

جب آپ کا اور آپ کے پارٹنر کا معاہدہ ’’کل نفع کی برابر تقسیم‘‘  کا ہوا ہے تو جو ٹرپ ریٹ آپ کو ملے گا،  وہی پارٹنر کو بتانا ہوگا اور اسی کے حساب سے نفع تقسیم ہوگا۔

جب تک آپ کے پارٹنر کی طرف سے کوئی ناجائز امر ظاہر نہ ہو اس وقت تک  آپ کی کمائی حلال ہے، اور بے بنیاد آپ بھی اپنے ساتھی پر شک نہ کیجیے۔ اور اگر کوئی ناجائز امر ظاہر ہوجائے تو اس کی تفصیل سے آگاہ کرکے مسئلہ دریافت کرلیں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6 / 59):

"(ومنها) : أن يكون الربح جزءاً شائعاً في الجملة، لا معيناً، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201219

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے