بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

ٹیلی فون پر نکاح کا حکم


سوال

ایک سوال پوچھا تھا جس کا جواب موصول ہوگیا، جو درج ذیل ہے، اس ضمن میں مزید تفصیل درکار ہے۔

سوال: میرا نکاح ایک لڑکے سے اس طرح ہوا تھا کہ میں کراچی میں تھی، لڑکا دبئی میں تھا اور نکاح خواں اور گواہ اسلام آباد میں تھے ۔ کیا اس طرح نکاح ہوجاتا ہے؟ نیز یہ کہ ہمارے نکاح کو دو سال ہوچکے ہیں۔

جواب:  صورتِ مسئولہ میں اگر مجلسِ نکاح میں لڑکے اور لڑکی کے وکیل موجود نہیں تھے تو نکاح درست نہیں ہوا تھا، دوبارہ نکاح کرنا لازم ہے۔ اگر نکاح کے بعد دونوں ساتھ رہے تو صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

مزید پوچھنا یہ ہے کہ :

اگر لڑکا  دوبارہ نکاح کرنے سے انکار کردے اور چھوڑ دے ، کیا عدت کرنی ہوگی ؟ اور براہِ مہربانی ایک بار پھر مسئلہ سمجھادیں  کہ فون پر نکاح ہوا تھا ، لڑکا دبئی میں  اور لڑکی کراچی میں اور گواہ ، نکاح خواں اور لڑکی کا وکیل اور لڑکے کا وکیل  اور قا ضی صاحب اسلام آباد میں تھے، مگر سب فون پر تھے اور نکاح ہوا، ایک بار پھر راہ نمائی فرمائیں !

جواب

شریعت نے نکاح کے انعقاد کے لیے ایک ضابطہ رکھا ہے، اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہونا  اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا  خود موجود ہونا  یا ان کے وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے،  نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے۔ اور اگر جانبین (لڑکا یا لڑکی ) میں سے کوئی ایک مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں اپنا وکیل مقرر کرے ، پھر یہ وکیل اپنے مؤکل کی طرف سے اس کا نام مع ولدیت لے کر مجلسِ نکاح میں ایجاب وقبول کریں، تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔

مذکورہ تفصیل کے بعد آپ نے  فون پر نکاح کی جو تفصیل ذکر کی ہے کہ لڑکی کراچی میں اور لڑکا دبئی میں تھا، جب کہ لڑکے کا وکیل ، لڑکی کا وکیل اور گواہان وغیرہ سب اسلام آباد میں تھے، تو   اگر اسلام آباد میں لڑکے کا وکیل اور لڑکی کا وکیل اور شرعی دو گواہ،اور قاضی خواہ وغیرہ ایک جگہ موجود تھے یعنی آمنے سامنے تھے ، صرف لڑکا اور لڑکی فون پر تھے تو  یہ نکاح منعقد ہوگیا ، چوں کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے وکیل نکاح کی مجلس میں موجود تھے ؛ اس لیے یہ نکاح منعقد ہوگیا۔

  اگر  نکاح کی یہی صورت  تھی تو آپ نے پہلے اپنے سوال میں اس کی وضاحت نہیں کی تھی کہ نکاح کی مجلس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کے وکیل موجود تھے۔ لیکن سابقہ جواب بھی اس صورت کو ملحوظ رکھ کر ہی دیا گیا تھا کہ " اگر لڑکے اور لڑکی کے وکیل موجود نہیں تھے تو نکاح درست نہیں ہوا تھا"۔ یعنی اگر دونوں کے وکیل بھی مجلسِ نکاح میں موجود تھے تو نکاح منعقد ہوگیا تھا۔

اور اگر لڑکا اور لڑکی کی طرح اسلام آباد میں موجود فریقین کے وکیل ، اور گواہان بھی ایک مجلس میں موجود نہیں تھے، بلکہ وہ سب بھی اسلام آباد میں مختلف جگہوں پر تھے اور یہ سب آپس میں فون کے ذریعے ہی رابطے میں تھے تو ایسی صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوا،اور فی الفور علیحدگی لازم ہے، اس صورت میں  چوں کہ نکاح ہوا ہی نہیں ہے؛ اس لیے اس کی عدت بھی لازم نہیں ہوگی، لہذا اس صورت میں آپ فی الفور  اگر چاہیں تو اسی لڑکے سے دوبارہ نکاح کرلیں ورنہ علیحدگی اختیار کریں۔

اور نکاح منعقد ہونے کی صورت میں رخصتی یا تنہائی میں ملاقات ہوئی تھی یا نہیں؟ اور لڑکے نے چھوڑدیا ہے یا نہیں؟ اگر لڑکے نے چھوڑ دیا ہے تو لڑکے کے الفاظ کیا تھے؟ ان باتوں کی وضاحت کردیجیے تو طلاق اور عدت کے بارے میں آپ کے سوال کا حتمی جواب دیا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے