بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ٹیلیفون پر نکاح کی جائز صورت


سوال

میرا چھوٹا بھائی ہے جو کہ دبئی میں جاب کرتا ہے، ابھی ہم اس کا  نکاح کرنا چاہ رہے ہیں،  لڑکا دبئی میں اور لڑکی پاکستان میں ہے،  لڑکے اور لڑکی کی فیملی بھی پاکستان میں ہے،  صرف لڑکا دبئی میں ہے تو کیا اس صورت میں نکاح ہو سکتا ہے?

جواب

نکاح کے وقت عاقدین اور گواہوں کامجلسِ  نکاح میں ہونا ضروری ہے، اور یہ ٹیلیفون پر ممکن نہیں،  اس لیے ٹیلیفون پر نکاح جائز نہیں۔ البتہ اگر  آپ کا بھائی ٹیلیفون پر نکاح کی بابت کسی کو وکیل بنا دے اور وہ وکیل مجلسِ نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں  اس کی طرف سے قبول کر لے، اس صورت میں نکاح درست ہو جائے گا۔  در مختار میں ہے:

"ومن شرائط الإیجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرین وإن طال کمخیرة". (الدر المختار مع الشامية 4/76)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے