بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ سے اولاد حاصل کرنے کا حکم


سوال

 کیا جن لوگوں کے اولاد نہ ہوتی ہو اور کوئی امید بھی نہ ہو تو کیا وہ ٹیسٹ ٹیوب سے اولاد حاصل کر سکتے ہیں؟ اگر بیٹیاں ہوں تو کیا ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بیٹا حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب

اولاد  نعمتِ خداوندی ہے ،  ہر شخص کے دل میں اس نعمت  کی تمنا ہوتی ہے ، لیکن اس سلسلہ میں بندہ عطاءِ خداوندی کا پابند ہے،بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت  دے دیتے ہیں اور بعض کو اس سے محروم کردیتے ہیں ۔ قرآنِ کریم میں ہے :﴿ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الذُّكُوْر... اِنَّه عَلِیْم قَدِیْر﴾ [الشوریٰ،آیت :49،50]

ترجمہ: وہ (اللہ تعالیٰ) عطا کرتاہے جسے چاہتاہے لڑکیاں، اور دیتاہے جس کو چاہتاہے لڑکے، یا لڑکے لڑکیاں ملاکر (دونوں) دیتاہے ان کو، اور جس کو چاہتاہے بانجھ بنادیتاہے، بلاشبہ وہ علم والا قدرت والا ہے۔ اس نعمت کے حصول کے لیے مردکواللہ تعالیٰ نے چارعورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے کی اجازت دی ہے، لہٰذا اگر بیوی میں کوئی ایسی بیماری ہے جوولادت کے لیے مانع ہے اور دوسری شادی کے اخراجات اور دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ان میں برابری کی قدرت بھی ہے تو دوسری شادی کرلی جائے۔

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش غیرفطری طریقہ ہے،جس میں شوہرکے مادہ منویہ اوراس کے جرثومےغیر فطری طریقے مثلاً جلق وغیرہ کے ذریعے حاصل کرکے بیوی کے رحم میں غیرفطری طریقے سے ڈالے جاتے ہیں، مردکامادہ منویہ اورعورت کابیضہ ملاکرٹیوب میں کچھ مدت کے لیے رکھ لیے جاتے ہیں اور پھرانجکشن کے ذریعے رحم میں پہنچا دیے جاتے ہیں؛  چوں کہ اس کے پہنچانے کا عمل عموماً اجنبی مرد یا عورت سرانجام دیتے ہیں جوکہ شرعاً جائزنہیں ہے؛ اس لیے اس سے اجتناب لازمی ہے ۔

اگر شوہر کا مادہ منویہ نکالنے اور بیوی کے رحم میں داخل کرنے کے عمل میں کسی اجنبی مرداور عورت کا دخل نہ ہو، یعنی مادہ منویہ بھی شوہر کا ہی ہو اور اسی کی بیوی کے رحم میں ڈالا جائے اور یہ کام شوہر اور بیوی خودانجام دیں تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر مادہ منویہ شوہر کے علاوہ کسی اور کا ہو، یا شوہر کے مادہ منویہ  کوغیرفطری طریقہ سے نکالنے یا عورت کے رحم میں داخل کرنے میں تیسرے مردیاعورت کا عمل دخل ہوتاہے اور اجنبی مردیاعورت کے سامنے ستر کھولنے  یا چھونے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس طرح کرنے کی شرعاً اجازت نہیں؛  کیوں کہ اولاد  (بیٹا یا بیٹی )کے حصول کے لیے کئی گناہوں کا ارتکاب جائز نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے