بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

تعلیمی ادارے میں ٹائی کی پابندی کروانا


سوال

میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں،  ہمیں انتظامیہ کی طرف سے ہدایات ہیں کہ سٹوڈنٹس سے یونیفارم میں ٹائی کی پابندی کروائی جائے، اس کی ترغیب دی جائے اور ٹائی نہ پہننے والے سٹوڈنٹس کو تنبیہ اور جرمانے کیے جائیں یا کلاس سے باہر نکال دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی صورت میں ٹائی پہننے کی ترغیب دینے اور نہ پہننے کی صورت میں جرمانے وغیرہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

ٹائی پہننے میں غیر مسلموں کے لباس کے ساتھ  مشابہت ہے، لہذا ٹائی پہننا یا اس کی ترغیب دینا درست نہیں،  طلبہ کی کوتا ہی پر مالی جرمانہ fine  لینا تو کسی بھی کام پر جائز نہیں ہے، ان کی کوتاہی پر  یونیورسٹی کے عہدیداران سے ان مسائل کے سلسلے  میں بات کی جائے، اور اس عمل  کی ترغیب نہ دی جائے۔ورنہ گناہ میں تعاون کا گناہ ہوگا۔

"فأما هئیة اللباس: فتختلف باختلاف عادة کل بلدة".  (فتح الباري / کتاب اللباس ۱۰؍۳۳۲ دار الکتب العلمیة بیروت)

"و عند أبي یوسف یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال، و عندنا و باقي الأئمة الثلاثة لا یجوز، کذافي فتح القدیر. و معنی التعزیر بأخذ المال علی القول به إمساک شيءٍ من ماله عنده مدة؛ لینز جر، ثم یعیده الحاکم إلیه ... إذ لا یجوز لأحدمن المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي". ( الفتاوى الهندية، فصل فی التعزیر ۲/۱۶۷ )فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے