بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1440ھ- 23 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

ورثاء میں بہن اور چچا ہوں


سوال

اگر کسی شخص کی نہ کوئی بیوی ہو، نہ اولاد ہو اور نہ والدین ہوں. صرف ایک بہن ہو یا بہن کی اولاد اور چچا یا چچا کی اولاد تو وراثت کی تقسیم کس طرح ہو گی؟ 

جواب

بہتر ہوتا کہ فرضی سوال بنانے کے بجائے حقیقی صورتِ حال سوال میں تحریر کردیتے ، تاہم مسئولہ صورت کی پہلی نوعیت میں بہن کو کل ترکہ کا نصف حصہ اور باقی ماندہ چچا کو ملے گا۔

دوسری نوعیت میں اگر بہن کا انتقال بھائی کے انتقال سے پہلے ہو گیا تھا تو مرحوم کی بھانجیوں کو ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا، سارےکے سارے  ترکہ کے حق دار بطورِ  عصبہ مرحوم کے چچا ہوں گے، اور اگر بہن کا انتقال بھائی کے انتقال کے بعد ہوا تھا تو ایسی صورت میں مرحومہ کا نصف حصہ یعنی مرحوم بھائی کے کل ترکہ کا نصف مرحومہ بہن کی اولاد میں حصصِ  شرعیہ کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا اور باقی ماندہ تمام ترکہ مرحوم کے چچا کو ملے گا۔ اور یہی تفصیل چچا کے انتقال کی صورت میں ان کے بیٹوں  کے سلسلہ میں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201295

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے