بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

وراثت رضامندی سے کسی کو دینے کے بعد اس کی واپسی کا مطالبہ


سوال

 میرا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ھے میرے والدہ اور پھپھو کی وٹہ سٹہ کی شادیاں ھوئی تھیں. میری والدہ اور پھپھو کے نام وارثتی جائیداد تھی. ھمارے ھاں علاقے کے رواج کے مطابق بہنیں وارثتی زمین اپنے بھائیوں کو واپس کر دیتی ھیں. بشرطیکہ تعلقات آپس میں اچھے ہونے چاہیے. اس تناظر میں میرے والد صاحب نے کچھ زمین بیچنا چاھی تو اسکے انتقال کا مطالبہ میری پھپھو سے کیا. جو اس نے خوشی اور رضامندی سے مان لیا.اور زمین کا انتقال خریدار کے نام کروا دیا. رقم میرے والد صاحب نے لے لی. کچھ زمین پھپھو کے نام باقی رہ گئی. ھماری والدہ جسکی شادی میری پھپھو کے وٹہ میں ھوئی تھی. اسکے نام بھی والد کی وارثتی زمین تھی. ھمیں زمین کا انتقال دیتے وقت پھپھو کے دل میں یہ بات ضرور تھی کہ ھم بھی ان سے زمین کا انتقال لیں گے. تاھم اسوقت ھمارے ساتھ نہ اس بارے میں کوئی بات نہیں ھوئی. میری والدہ نے کئی دفعہ اپنے بھائی کو وارثتی زمین کا انتقال واپس دینے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے ھمیشہ تاخیر سے کام لیا. کافی عرصہ گزر جانے کے بعد. تقریباً 20 سال ھماری اپنے ماموں کے خاندان سے زبردست لڑائی ھو گئی اور میری والدہ نے اپنے وارثتی زمین کے قبضہ کا مطالبہ کردیا. جو انکے نام انتقال تھی. جب ہم نے لڑائی کے باعث قبضہ مانگا. میری پھپھو نے مطالبہ کر دیا. کہ جو زمین کا انتقال آپ نے مجھ سے خریدار کے نام کروایا تھا. وہ زمین مجھے واپس کرو. معاملہ یہ ھے کہ زمین کا انتقال لیتے وقت ھم نے پھپھو کے ساتھ کسی رقم یا زمین کے بدلے زمین کا کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔ اور وہ زمین انہوں نے رضامندی سے ھمیں دے دی تھی۔ اب جب ھم نے ان سے زمین مانگی ھے تو انہوں اپنی فروخت شدہ زمین کا مطالبہ کردیا ھے. ھمارا موقف یہ ھے کہ انکا مطالبہ درست نہیں۔ اس بارے میں شریعی فیصلے سے آگاہ فرمائیں

جواب

سائل کی پھوپھی نے  اگر اس وجہ سے زمین کا انتقال دیا تھا کہ اس علاقے یا قوم میں بہنوں کو غیر منقولہ جائیداد میں حصہ دینے کا رواج نہیں یا شرما شرمی کی وجہ سے زمین کا انتقال دیاتھا یا اس وجہ سے کہ بھائی ناراض ہوں گے تو آپ کے والد کے لیے اپنی بہن کا حصہ  حلال نہیں اور اگر بہن نے دلی رضامندی سےاپنے بھائی کو زمین کے فروخت اورررقم کی وصولی کی اجازت دے دی تھی تواب اسے اپنی زمین کا مطالبہ درست نہیں۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143710200038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے