بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

وحی اور حدیث قدسی میں فرق


سوال

وحی اورحدیثِ قدسی میں کیا فرق ہے؟

جواب

 وحی کی لغوی تعریف: "الْإِعْلَام فِي خَفَاء"۔ (پوشیدہ بات کی خبر دینا)۔ اصطلاحی تعریف:  "هُوَ كَلَام الله الْمنزل على نَبِي من أنبيائه وَالرَّسُول"۔ یعنی انبیاءِ کرام علیہم السلام پر نازل ہو نے والے اللہ کے کلام کو وحی کہتے ہیں ۔

پھر وحی کی دو قسمیں ہیں :

(1) وحی متلو ،  (2)  وحی غیر متلو ۔

وحی متلو: ایسی وحی ہے جس کے الفاظ و معانی دونوں اللہ جل شانہ کی طرف سے ہوں ، اسے قرآن کہتے ہیں۔
وحی غیر متلو : ایسی وحی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر صرف معانی و مضامین کی شکل میں القا کی گئی ہو ۔

اوران معانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے کبھی اپنے الفاظ سے اور کبھی اپنے افعال سے اور کبھی دونوں سے بیان فرمایا ہو، اس کو حدیث کہتے ہیں،  اور جس حدیث کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہو، اس کو "حدیثِ قدسی" کہتے ہیں، لہذا حدیثِ قدسی کی تعریف یہ ہے  :   "هو من حيث المعنى من عند الله تعالى، ومن حيث اللفظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم"یعنی جس کا معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے قلب پر نازل کردہ ہو اور اس کے الفاظ آپ ﷺ کے ہوں، اور آپ ﷺ نے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرکے اسے نقل کیا ہو۔

خلاصہ یہ ہوا کہ  وحی سب سے زیادہ عام ہے، جو قرآن، حدیث اور حدیثِ قدسی تینوں کو شامل ہے، اگر وحی سے وحی متلو مراد ہو، تو یہ قرآن کے ساتھ خاص ہوگی اور قرآن اور حدیث قدسی میں فرق یہ ہوگا کہ قرآن تو لفظاً ومعنیً دونوں طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے منزَّل ہے، جب کہ حدیثِ قدسی میں الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہیں۔ اور حدیثِ قدسی اور دیگر احادیث میں فرق یہ ہے کہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ سے نقل کی تصریح ہوتی ہے، جب کہ دیگر احادیث میں اللہ تعالیٰ سے نقل کی تصریح نہیں ہوتی۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (1/ 14):
"والوحي في الأصل: الإعلام في خفاء۔ قال الجوهري: الوحي: الكتاب، وجمعه وحي، مثل حلي وحلي ... وفي اصطلاح الشريعة: هو كلام الله المنزل على نبي من أنبيائه والرسول".

التعريفات للجرجانی (ص: 83) :
"الحديث القدسي: هو من حيث المعنى من عند الله تعالى، ومن حيث اللفظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهو ما أخبر الله تعالى نبيه بإلهام أو بالمنام، فأخبر عليه السلام عن ذلك المعنى بعبارة نفسه، فالقرآن مفضلٌ عليه؛ لأن لفظه منزل أيضًا". 
فقط واللہ اعلم
 

' فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201343

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے