بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

والد کا زندگی میں اپنے بیٹے کی شادی پر خرچ کیا ہوا پیسہ یا بیٹے کو دیا ہوا زیور بیٹے کو ورثا کو لوٹانا ضروری ہوگا؟


سوال

میرے والد کا انتقال چند سال پہلے ہوا ہے، ان کے انتقال سے پہلے جہاں وہ کام کرتے تھے وہاں سے ملازمت ختم کردی اور جو سروس بینیفٹس ملتے ہیں وہ لے لیے، تقریبا دس لاکھ روپےتھے، یہ پیسے والد نے میری شادی پر زیور خریدنے اور گھر بنوانے میں خرچ کر دیے ، خرچ کرتے وقت میرے والد نے یہ نہیں کہا کہ یہ ادھار ہیں یا ان پیسوں میں سب کا حصہ ہے، ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، اب ان کے انتقال کے بعد اس پیسے پر میری والدہ اور میری بہن کا کوئی حصہ ہے؟ جو میری شادی اور زیور پر میرے والد نے لگایا تھا؟ اور کیا یہ پیسے مجھے ادا کرنے ہوں گے؟

 

جواب

آپ کے والد نے اپنی زندگی میں آپ کی شادی پر جو کچھ روپیہ پیسہ اپنی مرضی سے خرچ کیاتھا،   بطور ادھار یا قرض نہیں دیا تھا،اس کا لوٹانا آپ کے ذمے نہیں ہے، اسی طرح جو زیور بنا کر آپ کو ان کا مالک بنا دیا ہے،   آپ ان کے مالک ہیں اور ان میں آپ کی والدہ یا آپ کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔


فتوی نمبر : 143709200034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے